روزہ محض بھوک نہیں… بلکہ ضبطِ نفس کا ایک سبق ہے

  • 10 مارچ 2026
روزہ محض بھوک نہیں… بلکہ ضبطِ نفس کا ایک سبق ہے

 

 
     جب روزے کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں کھانے پینے سے رکنے کا تصور آتا ہے، لیکن روزے کا حقیقی مفہوم اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ روزہ دراصل ایک مکمل تربیتی مدرسہ ہے، نفس کے تزکیے کا عملی وسیلہ ہے، اور اخلاق و کردار کی اصلاح و تربیت کا ذریعہ ہے۔ یہ صرف جسمانی پرہیز نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی بلندی کا سفر ہے جو انسان کو اس کے اندرونی یا باطنی توازن کی طرف لوٹاتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی بندگی کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔

 

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں فرمایا:
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”
یعنی: ﴿اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو﴾ (البقرہ: 183)۔

پس روزے کا سب سے بڑا مقصد تقویٰ کا حصول ہے، اور تقویٰ صرف بھوک سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ خواہشات کو قابو میں رکھنے، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور نفس کی خواہشات کے خلاف جدوجہد کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

رمضان میں جائز اشیاء (کھانے پینے) سے رکنا نفس کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے، جو انسان کو حرام کاموں سے بچنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہ صبر و ضبط سکھاتا ہے کہ جب حلال چیزیں اللہ کے حکم پر چھوڑی جا سکتی ہیں تو حرام سے بچنا زیادہ ضروری ہے، جس سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ضبطِ نفس کا حقیقی مفہوم نمایاں ہوتا ہے؛ یوں روزہ ہمیں ارادے کی مضبوطی، رغبات کے مقابلے میں ثابت قدمی اور جذبات پر قابو پانے کی عملی مشق دیتا ہے۔ روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ (اللہ کا خوف) پیدا کرنا ہے تاکہ انسان ہر ممنوع کام سے رک جائے۔

 

اسی لیے روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے تک محدود نہیں، بلکہ زبان کو غیبت اور چغلی سے، آنکھ کو حرام سے اور کان کو اُن باتوں سے روکنے کا نام بھی ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزہ رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے”۔
[صحیح البخاری، کتاب الصوم، حدیث: 1903]

پس حقیقی روزہ تمام اعضاء کا روزہ ہے، دل کا کینہ اور حسد سے پاک ہونا ہے، اور عقل کا برے خیالات سے محفوظ رہنا ہے۔

روزہ ہمیں صبر بھی سکھاتا ہے؛ کیونکہ بھوک اور پیاس انسان کے اندر غریبوں اور محتاجوں کا احساس بیدار کرتی ہیں اور دلوں میں رحمت و شفقت پیدا کرتی ہیں۔ یوں وقتی تکلیف کا احساس مستقل سماجی ذمہ داری کے شعور میں بدل جاتا ہے، نیکی اور احسان کے کام بڑھتے ہیں، اور معاشرے کے افراد کے درمیان باہمی تعاون اور ہمدردی کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے۔

رمضان میں ضبطِ نفس کوئی عارضی مقصد نہیں جو مہینے کے اختتام پر ختم ہو جائے، بلکہ یہ اپنے آپ کے ساتھ ایک نئے تعلق کی بنیاد ہے۔ ایسا تعلق جو خود نگرانی اور احتساب پر قائم ہو اور ہمیشہ بہتری کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے۔ روزہ دار یہ سیکھتا ہے کہ جب خواہش ابھرے تو “نہیں” کہے اور جب فرض پکارے تو “ہاں” کہے، اور اپنی وقتی خواہشات پر اللہ کی رضا کو ترجیح دے۔

اس دور میں جب دل بہلانے والی چیزیں بڑھ گئی ہیں اور خواہشات کو بے حد اُبھارا جاتا ہے، روزہ ایک تربیتی ضرورت بن جاتا ہے جو انسان کو اس کے نفس پر دوبارہ قابو دلاتا ہے، تاکہ وہ اپنی خواہشات کا غلام نہ رہے بلکہ ان پر حاکم بن جائے۔ یہی روزے کا اعلیٰ ترین مفہوم ہے: کہ انسان کسی اور چیز پر غالب آنے سے پہلے اپنے نفس پر غالب آئے۔

پس روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی گہرائیوں تک کا ایک سفر ہے جو اسے سنوارتا اور پاکیزہ بناتا ہے، اور یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی آزادی خواہشات کے پیچھے چلنے میں نہیں بلکہ انہیں قابو میں رکھنے کی صلاحیت میں ہے۔ جو اس معنی کو سمجھ لے وہ جان لیتا ہے کہ رمضان محرومی کا مہینہ نہیں بلکہ انسان کو اندر سے تعمیر کرنے کا مہینہ ہے۔

Print
Tags:

Please login or register to post comments.

 

رمضان کے بعد کیا؟ یہ اختتام نہیں بلکہ آغازِ سفر ہے
بدھ, 15 اپریل, 2026
     رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے محض عبادت کا ایک مہینہ نہیں بلکہ خود احتسابی، روحانی تربیت اور عملی اصلاح کا ایک سنہری موقع ہوتا ہے۔ تاہم یہ سوال ہر سال رمضان کے اختتام پر پھر سے ابھرتا ہے کہ: رمضان کے بعد ہم کہاں کھڑے...
اقناع سازی کی حکمتِ عملی کا فن
پير, 13 اپریل, 2026
ایک ایسی دنیا میں جو آوازوں کے شور سے بھری ہوئی ہے، اثر ڈالنا اب صرف اُن لوگوں تک محدود نہیں رہا جو اپنی آواز سب سے زیادہ بلند کرتے ہیں، بلکہ اُن کے لیے بھی ہے جو اپنے الفاظ کو ذہانت اور شعور کے ساتھ سمت دینا جانتے ہیں۔ آج لفظ محض اظہار کا ذریعہ...
نفسیاتی عدویٰ
پير, 13 اپریل, 2026
سوشل میڈیا کے دور میں تشدد کی معمول سازی اور شعور کی بگاڑ سوشل میڈیا اب محض باہمی رابطے اور خبروں کے تبادلے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک مکمل نفسیاتی ماحول بن چکا ہے جس میں انسان روزانہ کئی گھنٹے گزارتا ہے۔ حادثات، جرائم اور المیوں سے متعلق...
12345678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

روزه اور قرآن
  رمضان  كے رروزے ركھنا، اسلام كے پانچ  بنيادى   اركان ميں سے ايك ركن ہے،  يہ  ہر مسلمان بالغ ،عاقل ، صحت...
اتوار, 24 اپریل, 2022
حجاب اسلام كا بنيادى حصہ
جمعه, 25 مارچ, 2022
اولاد کی صحیح تعلیم
اتوار, 6 فروری, 2022
اسلام ميں حقوقٍ نسواں
اتوار, 6 فروری, 2022
12345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345678910Last