وہمی اور مغالطہ آمیز شعور

  • 21 مئی 2026
وہمی اور مغالطہ آمیز شعور

 

جب ادراک کو اندر سے دوبارہ تشکیل دیا جائے

آج کے معلوماتی دور میں حقیقی خطرہ صرف جہالت نہیں، بلکہ وہ “مکمل اور بظاہر قائل کرنے والا علم” ہے جو ہمیں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ہم شعوری طور پر اس کی تشکیلِ نو کو محسوس بھی نہیں کر پاتے۔

یہاں “مصنوعی یا جھوٹے شعور” (False Consciousness) کا تصور سامنے آتا ہے، جس کے مطابق انسان کو علم سے مکمل طور پر محروم نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے ایک خاص سمت میں اس طرح رہنمائی دی جاتی ہے کہ وہ اسے غیر محسوس انداز میں حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔

ڈیجیٹل دور، خصوصاً سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز، رائے سازی اور ادراک کی تشکیل میں غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پروپیگنڈہ صرف جھوٹ پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ اکثر درست معلومات کو اس کے اصل سیاق و سباق سے کاٹ کر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ ایک یکطرفہ حقیقت جنم لے لیتی ہے۔ یہی عمل رفتہ رفتہ اجتماعی شعور کو متاثر کرتا ہے اور انسان آزادانہ فکر اور منظم تلقین کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ شعور مکمل جھوٹ پر قائم ہو؛ اکثر یہ سچائی کے جزوی پہلوؤں پر مبنی ہوتا ہے، لیکن ان پہلوؤں کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص بیانیے کی خدمت کریں۔ یہی اس مسئلے کی اصل پیچیدگی ہے۔

امریکی مفکر ہربرٹ شِلر نے اپنی کتاب “The Mind Managers” میں خبردار کیا کہ معلومات پر پابندی سے زیادہ خطرناک اس کی وہ تشکیلِ نو ہے جو اسے مخصوص مفادات کے مطابق ڈھال دے۔ اسی طرح پاولو فریرے کے نزدیک بھی شعور کی مسخ شدگی ایک طرح کا فکری جبر ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔

آج مسئلہ صرف غلط معلومات کا نہیں، بلکہ معلومات کے ذریعے شعور کی تشکیلِ نو کا ہے۔ اس مقصد کے لیے کئی طریقے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً:

* معلومات کا انتخابی پیش کرنا (Selective Framing)

 

* معلومات کی حد سے زیادہ بھرمار تاکہ ذہن تھک کر ہر چیز قبول کرنے لگے

 

* ایک ہی پیغام کی مسلسل تکرار تاکہ وہ حقیقت معلوم ہونے لگے

 

انتہا پسند گروہ بھی اسی فکری میکانزم کو استعمال کرتے ہیں۔ وہ بظاہر عقلی، مذہبی یا انسانی ہمدردی پر مبنی بیانیہ اختیار کرتے ہیں، مگر اس کے اندر مخصوص نظریاتی اور انتہاپسندانہ پیغامات چھپے ہوتے ہیں۔

اس عمل میں شعور کی تشکیلِ نو تدریجاً کی جاتی ہے:

1. تصورات کی ازسرِ نو تعریف: “انصاف”، “شناخت” یا “حب الوطنی” جیسے تصورات کو مخصوص نظریے کے مطابق بدل دینا۔

 

2. جزوی مظلومیت کا استعمال: منتخب واقعات کے ذریعے جذباتی ردِعمل پیدا کرنا۔

 

3. منتخب بیانیہ سازی: واقعات کو اس طرح جوڑنا کہ ایک مربوط مگر گمراہ کن کہانی تشکیل پائے۔

 

4. تدریجی ذہنی تبدیلی: فرد کو آہستہ آہستہ عام خیالات سے انتہاپسندانہ سوچ کی طرف لے جانا۔

 

اس کے نتیجے میں فرد کو فوراً قائل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے ادراک کو اس طرح ڈھالا جاتا ہے کہ وہ بتدریج مخصوص نظریات کو قبول کرنے لگتا ہے۔

بیدار شعور کی طرف

لہٰذا انتہاپسندی کا مقابلہ صرف نظریاتی ردّعمل سے ممکن نہیں، بلکہ یہ دراصل شعور کی جنگ ہے۔ اس جنگ کا مقصد ایسا ذہن تیار کرنا ہے جو سوال اٹھا سکے، تجزیہ کر سکے اور معلومات کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرے۔

آج صرف معلومات تک رسائی کافی نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان معلومات کے ساتھ برتاؤ کیسے کیا جائے۔ اسی تناظر میں ادارے اور ماہرین درج ذیل صلاحیتوں کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں:

* تنقیدی مطالعہ: متن کے ظاہری مفہوم کے ساتھ اس کے پس منظر اور ماخذ کا تجزیہ

 

* تنقیدی فکر: مختلف بیانیوں کا تقابل اور سوالات اٹھانے کی عادت

 

* باشعور تجزیہ: میڈیا پیغامات کے پیچھے موجود مقاصد کو سمجھنا

 

حقیقی شعور کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ تنقیدی سوچ، مکالمے اور فکری تکثیریت کو فروغ دیا جائے، اور خصوصاً نوجوانوں میں ڈیجیٹل ذمہ داری کا احساس پیدا کیا جائے۔

آخر میں، سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ انسان سے حقیقت چھپا لی جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ مکمل حقیقت جانتا ہے، جبکہ وہ دراصل اس کا صرف ایک محدود اور منتخب حصہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔

اسی لیے آج کے دور میں شعور کا تحفظ محض فکری سرگرمی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی ضرورت بن چکا ہے

Print
Tags:

Please login or register to post comments.

 

وہمی اور مغالطہ آمیز شعور
جمعرات, 21 مئی, 2026
  جب ادراک کو اندر سے دوبارہ تشکیل دیا جائے آج کے معلوماتی دور میں حقیقی خطرہ صرف جہالت نہیں، بلکہ وہ “مکمل اور بظاہر قائل کرنے والا علم” ہے جو ہمیں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ہم شعوری طور پر اس کی تشکیلِ نو کو محسوس بھی...
تاریک اسکرینوں کے پیچھے: کم سن لڑکیوں کی ڈیجیٹل بھرتی کا بڑھتا خطرہ
جمعرات, 21 مئی, 2026
    جدید ڈیجیٹل دور میں، جہاں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے رابطوں اور معلومات تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، وہیں ان کے بعض منفی پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ان خطرات میں ایک سنگین مسئلہ کم سن لڑکیوں کی ڈیجیٹل بھرتی ہے،...
رمضان کے بعد کیا؟ یہ اختتام نہیں بلکہ آغازِ سفر ہے
بدھ, 15 اپریل, 2026
     رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے محض عبادت کا ایک مہینہ نہیں بلکہ خود احتسابی، روحانی تربیت اور عملی اصلاح کا ایک سنہری موقع ہوتا ہے۔ تاہم یہ سوال ہر سال رمضان کے اختتام پر پھر سے ابھرتا ہے کہ: رمضان کے بعد ہم کہاں کھڑے...
1345678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
1234567810Last

روزه اور قرآن
  رمضان  كے رروزے ركھنا، اسلام كے پانچ  بنيادى   اركان ميں سے ايك ركن ہے،  يہ  ہر مسلمان بالغ ،عاقل ، صحت...
اتوار, 24 اپریل, 2022
حجاب اسلام كا بنيادى حصہ
جمعه, 25 مارچ, 2022
اولاد کی صحیح تعلیم
اتوار, 6 فروری, 2022
اسلام ميں حقوقٍ نسواں
اتوار, 6 فروری, 2022
12345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
1234567810Last