سوشل میڈیا اب محض تفریح یا وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، خصوصًا نوجوانوں کے لیے۔ تو اس کے ذریعے ہم دوسروں سے رابطہ کرتے ہیں، ایسے افراد کی تلاش کرتے ہیں جو ہماری دلچسپیوں میں شریک ہوں، خیالات اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اور خود سیکھنے کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر كرتے ہيں اور نئی مہارتیں حاصل کرتے ہیں۔یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بنیادی طور پر تخلیق، اظہاررائے اور تعلیم کے لیے ایک کھلا ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے بنائے گئے تھے۔
تاہم، اسی خصوصیت کو دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں نے خطرناک انداز میں استعمال کیا ہے۔ تو تیز رفتار رسائی، وسیع پیمانے پر پھیلاؤ ، اور بعض اوقات نگرانی کی کمزوری نے انہیں اپنے نظریات پھیلانے کا ايك سنہری موقع فراہم کیا۔ اس کے علاوہ انتہاپسند مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت معیارات کی کمی ہے۔
يہاں سے، ان تنظیموں نے جعلی اکاؤنٹس (Fake Accounts) کے ذریعے اپنی موجودگی قائم کرنا شروع کی۔ یہ اکاؤنٹس بظاہر غیر نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات ميں مفيد، لیکن حقیقت میں یہ انتہا پسندانہ نظریات اور فکری زہر پھیلانے کے خفیہ ذرائع ہوتے ہیں۔
پہلا: دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا کا سہارا کیوں لیتی ہیں؟
انتہا پسند تنظیمیں سوشل میڈیا کو کئی بنیادی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:
1. انتہا پسندانہ نظریات کی اشاعت:
وہ اپنے سرگرمیوں کو اپنے نظریات کی طرف مائل کرنے کی کوشش سے کرتی ہے، جس کے لیے جذباتی پیغامات یا مسخ شدہ مذہبی مضامین کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔
2. بھرتی:
قائل کرنے کے مرحلے کے بعد وہ نوجوانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کو جو جذباتی جوش یا فکری خلا کا شکار ہوں۔
3. تربیت اور رہنمائی:
یہ تنظیمیں صرف بھرتی پر اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ان ہی پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے پیروکاروں سے رابطہ رکھتی ہیں، اور بعض اوقات دور سے تربیت بھی فراہم کرتی ہیں۔
4. تشدد پر اکسانا اور نفرت پھیلانا:
وہ ایسے بیانیے کو فروغ دیتی ہیں جو "دوسروں" کو نشانہ بناتا ہے، اور یہ تصادم اور دشمنی کے نظریات، نیز غصے اور انتقام کے جذبات کو فروغ دیتی ہے۔
5. گمراہ کن معلومات کی اشاعت:
یہ جھوٹی یا سیاق و سباق سے ہٹائی گئی معلومات پھیلاتی ہیں اور اسلام کو ناحق دہشت گردی سے جوڑنے والی منفی تصویر کو فروغ دیتی ہیں، تاکہ حقیقت کو مسخ کیا جا سکے۔
6. سازشی نظریات کی اشاعت:
یہ سامعین کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ دین یا معاشرے کے خلاف کوئی سازش یا جنگ جاری ہے تاكہ تشدد کو جواز فراہم کيا جا سكے۔
دوم: یہ تنظیمیں کن نمایاں طریقوں پر انحصار کرتی ہیں؟
دہشت گرد تنظیمیں عوام پر اثر انداز ڈالنے کے لیے متعدد ذہین حکمتِ عملیاں اختیار کرتی ہیں، جن میں درج ذیل اہم ہیں:
- پردہ پوشی اور خفیہ انداز میں کام کرنا: يہ ایسی اکاؤنٹس بناتی ہیں جو بظاہر دینی، انسانی یا قومی نوعیت کے نظر آتے ہیں، لیکن درحقیقت بھرتی (Recruitment) کے لیے استعمال ہونے والے پلیٹ فارم ہوتے ہیں۔ یہ "نیک چہرہ" ان کے خطرناک ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ ابتدا ہی میں صارف کو دھوکا دے دیتا ہے۔
- مبالغہ آرائی، تحریف اور گمراہ کن معلومات کا استعمال۔
- تحریف:
غصہ اور اشتعال پیدا کرنے کے لیے حقائق کو بدل دینا، مثلاً کسی واقعے کو نامکمل یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنا۔
- مبالغہ آرائی:
چھوٹے واقعات کو بہت بڑا بنا کر پیش کرنا تاکہ وہ سنگین بحران معلوم ہوں۔
ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جھوٹی خبریں یا جعل سازى ماخذ پھیلانا۔
- قصہ گوئی (Storytelling):
یہ تنظیمیں "متاثرین" یا "شہداء" کے بارے میں جذباتی کہانیاں سناتی ہیں تاکہ لوگوں کے احساسات کو متاثر کیا جا سکے، پھر اسی ہمدردی کو نظریاتی قناعت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
- طبقاتی تقسیم اور مخصوص گروہوں کو ہدف بنانا:
یہ سب لوگوں سے ایک ہی انداز میں مخاطب نہیں ہوتیں، بلکہ سامعین کو مختلف طبقات (بچوں، نو عمر افراد اور نوجوانوں) میں تقسیم کرتی ہیں، اور ہر طبقے کے لیے اس کی دلچسپیوں (کھیل، فن، دین وغیرہ) کے مطابق پیغام تیار کرتی ہیں، جس سے اثرانداز ہونا آسان ہو جاتا ہے۔
- دلکش ذرائع ابلاغ کا استعمال:
یہ مختصر ویڈیوز، جذبات انگیز موسیقی، اعلیٰ معیار کی تصاویر، بلکہ بعض اوقات الیکٹرانک گیمز تک استعمال کرتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کی جا سکے اور بڑی تعداد میں متابعین کو اپنی جانب متوجہ کیا جا سکے۔
سوم: ہم اپنی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں؟
اس منظم استحصال کے پیشِ نظر شعور ایک ضرورت بن چکی ہے، نہ کہ محض ایک اختیار۔ اپنی حفاظت کے لیے درج ذیل اقدامات نہایت اہم ہیں:
- کسی بھی معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے ماخذ کی تصدیق کریں۔
- نجی پیغامات (Private Messages) کے ساتھ معاملہ کرتے وقت احتیاط برتیں۔
- اپنی ذاتی معلومات کسی غیر معتبر یا مشتبہ ادارے یا فرد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
- نامعلوم گروپس یا چیٹ رومز میں شامل ہونے سے گریز کریں۔
- کسی بھی پوسٹ پر ردِعمل ظاہر کرنے سے پہلے غور و فکر کریں اور جذبات کے بہاؤ میں نہ آئیں۔
- کسی بھی مشتبہ یا انتہا پسندانہ مواد کی فوری طور پر رپورٹ کریں۔
- انتباہی علامات پر توجہ دیں، جیسے نئے بنائے گئے صفحات، مبالغہ آمیز سرخیاں، یا معتبر ذرائع کا فقدان۔
- خبروں اور تصاویر کی تصدیق کے لیے دستیاب جانچ پڑتال کے ذرائع اور ٹولز استعمال کریں۔
مرصدِ الازہر برائے انسدادِ انتہا پسندی اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس خطرے کا حقیقی مقابلہ صرف سکیورٹی اقدامات کے ذریعے ممکن نہیں، بلکہ اس کی ابتدا ذہنوں کی حفاظت اور شعور کی تعمیر سے ہوتی ہے۔ ہر وہ نوجوان جو تنقیدی سوچ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، انتہا پسندانہ افکار کے خلاف دفاع کی پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔
آج ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کا دانشمندانہ استعمال کریں، اور محض معلومات وصول کرنے والے نہ بنیں، بلکہ ایسے باشعور صارف بنیں جو اپنے اردگرد ہونے والی سرگرمیوں کو سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جس طرح سوشل میڈیا علم، آگاہی اور روشنی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اسی طرح اگر شعور اور احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو یہی ذرائع تاریکی اور گمراہی کے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔