دنیا میں 2015 کے بعد پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات سے واضح ہوا ہے کہ "نفرت انگیز خطاب" انتہا پسندی اور تشدد کا بنیادی محرک ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا نے نوجوانوں تک انتہا پسندانہ خیالات کی رسائی کو آسان بنایا ہے، جس سے فکری اور سماجی استحکام پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔
الازہر الشریف، جس کا قیام ہزار سال قبل ہوا، نے نوجوانوں کی تربیت اور انہیں انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھا ہے۔ عزت مآب شیخ الأزہر، پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب کی قیادت میں، نے اس جدید چیلنج سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات اور ادارے قائم کیے ہیں۔
الأزہر کے اقدامات اور ادارے
الازہر آبزرویٹری برائے انسدادِ انتہاپسندی
نوجوانوں کے لیے پہلا دفاعی خط، خاص طور پر سوشل میڈیا پر۔
انتہا پسند نظریات اور غلط تصورات کی اصلاح اور شکوک و شبہات کا رد۔
ڈیجیٹل انقلاب اور اسمارٹ فونز کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر نوجوانوں کی حفاظت۔
ازہر انٹرنیشنل سینٹر اور الیکٹرانک فتوی
دفاع کا دوسرا خط، عربی اور متعدد غیر ملکی زبانوں میں آن لائن فتاویٰ۔
سخت گیر فتاویٰ کا مقابلہ اور غیر مستند فتاویٰ کی روک تھام۔
نوجوانوں میں صحیح اسلامی علوم اور شعور پیدا کرنا۔
ازہر اکیڈمی برائے تدریب وتربیت ائمہ، دعاة، مبلغین، محققین اور فتاوی سیکرٹریز
دفاع کا تیسرا خط، مذہبی خطاب کی تجدید اور ہدام نظریات کا مقابلہ۔
معاصر مفتیان اور اماموں کی تربیت تاکہ وہ انتہا پسند تنظیموں کے شکوک و شبہات کا مؤثر جواب دے سکیں۔
اطلاعاتی سیکیورٹی، الیکٹرانک انتہا پسندی اور تکنیکی مباحثہ کی تربیت۔
(اکیڈمی کا قیام مذہبی فکر کی تجدید، دعوتی گفتگو میں گہرائی، اور مبلغین اور مفتیوں کو ازہر کے راسخ منہج کے اصولوں کے مطابق ایسی مہارتیں فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا جو انہیں انتہا پسندانہ خیالات کا مقابلہ کرنے، بقائے باہمی، مکالمہ اور دوسروں کو قبول کرنے کی اقدار کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرے ۔ )
مسلم کونسل آف ایلڈرز
یہ ایک خود مختار بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا مقصد مسلم معاشروں میں امن کو فروغ دینا، اور بات چیت، رواداری اور دوسرے کے احترام کی اقدار کو مستحکم کرنا، اور مشرق و مغرب کے مکالمے کے ذریعے خود مسلمانوں کے درمیان اور ان کے اور دوسروں کے درمیان تصادم اور تقسیم کے عوامل سے بچنا ہے ۔
اعلیٰ مصالحتی کمیٹی
یہ کمیٹی 2014میں قائم کی گئی، تاکہ اسلامی شریعت کے مقاصد کی تکمیل کرتے ہوئے امن واستقرار کو برقرار رکھا جا سکے اور انسانی جان کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ۔ کمیٹی مصر کے اندر اور باہر کئی مفاہمتیں مکمل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔
اعلیٰ کمیٹی برائے اخوت انسانی
کمیٹی انسانی اخوت سے متعلق دستاویز میں درج اہداف اور مقاصد کے لیے ایک ایگزیکٹو فریم ورک ترتیب دے کر "انسانی اخوت سے متعلق دستاویز" کے ان اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے جن پر 4 فروری 2019 کو ابوظہبی میں عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد اطیب شیخ الازہر اور کیتھولک چرچ کے پوپ، پوپ فرانسس نے دستخط کیے تھے۔
جدید دعوتی ذرائع
کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز میں ایک مضمون کے ذریعے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی اثرات پر تبادلہ خیال۔
نوجوانوں کو موجودہ اسلامی دعوت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تربیت دینا۔
مسجد ازہر کے ہالز کا احیاء
چند سال قبل عزت مآب امام اکبر پروفیسر ڈاکٹر احمد اطیب شیخ الازہر کے اقدام پر جامع ازہر کے علمی ہالز، (جہاں مختلف علوم پڑھائے جاتے ہیں ) کا احیاء عمل میں لایا گیا۔ تاکہ یہ ازہر کے معتدل اور منظم منہج کے مطابق تمام عمر کے تمام طلباء کے لیے اسلامی اور عربی علوم کی تشریح کرنے اور اس میں سہولت فراہم کرنے میں اپنے تاریخی کردار کو بروئے کار لائیں۔
الازہر آبزرویٹری کی سفارشات
حقوق اور آزادیوں کا تحفظ: غیر محفوظ معاشرہ انتہا پسندی کے لیے زرخیز ماحول فراہم کرتا ہے۔ حکومتوں کو امن اور آزادیوں کے درمیان توازن قائم کرنا چاہیے۔
نسلی اور مذہبی امتیاز کے خاتمے کے اقدامات
نوجوانوں کی حمایت اور شمولیت: انہیں سنا جائے، اظہار رائے کی آزادی دی جائے اور معاشرتی مسائل میں شامل کیا جائے۔
رضاکارانہ اور خیراتی کام کی حوصلہ افزائی: نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت میں لگانا اور انسانی بھائی چارہ فروغ دینا۔
آن لائن نفرت انگیز مواد کے خلاف اقدامات:ویب سائٹس کے منتظمین کی تربیت اور اشتعال انگیزی کرنے والوں کی شناخت اور سزا۔
سوشل میڈیا پر معاشرتی مہمات: نوجوانوں میں مثبت شعور اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے مہمات۔
نظریاتی اور عقائدی انتہا پسندی کا مقابلہ:انتہا پسند نظریات اور بیانات کو رد کرنا اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا۔
روحانی رہنماؤں کا کردار:علماء اور مذہبی رہنماؤں کو جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ پر موجود دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال ہونا چاہیے۔
مذہبی لاعلمی کا خاتمہ:مختلف پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں تک درست دینی معلومات پہنچانا، مدارس، ٹی وی چینلز، یوتھ سینٹرز، ثقافتی مراکز وغیرہ کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت دینا۔
الأزہر الشریف نے نوجوانوں کی تربیت، سماجی شعور اور انتہا پسندی کے خلاف دفاع کے لیے ایک مکمل حکمت عملی تیار کی ہے۔ اس میں تعلیمی، فکری، تکنیکی اور سماجی اقدامات شامل ہیں۔ الازہر آبزرویٹری اور دیگر ادارے نوجوانوں کو انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے اور مثبت فکری ترقی کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
یہ اقدامات نہ صرف مصر بلکہ عالمی سطح پر بھی انتہا پسندی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے نمونے ہیں، جو دیگر ممالک کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔