ہر نئے عیسوی سال کے آغاز پر نجومیوں اور فالگیروں کی پیش گوئیاں سامنے آتی ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقبل کے واقعات جانتے ہیں۔ کبھی کبھار اُن کی بعض باتیں درست بھی نکل آتی ہیں تو لوگوں کا تجسس بڑھ جاتا ہے اور یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا ان کی بات سننا جائز ہے یا نہیں، اور ان کے اقوال کس حد تک معتبر ہیں۔ اس لیے ہم اِن سوالات کا جواب شرعی اور عقلی نقطۂ نظر سے پیش کرتے ہیں۔
یِکم: کیا نجومیوں اور فالگیروں کی بات سننا محض تجسس کے طور پر بھی جائز ہے؟
اسلام نجومیوں اور فالگیروں سے تعلق رکھنے سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ أَتَىٰ عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا»
(صحیح مسلم)
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ أَتَىٰ كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنزِلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ ﷺ»
(سنن ابی داؤد)
یہاں کفر سے مراد وہ کفر نہیں جو اسلام سے خارج کر دیتا ہے، بلکہ یہ ایک سخت وعید ہے جو عقیدۂ صحیحہ کی مخالفت کو ظاہر کرتی ہے۔ محض تجسس یا دل کی تسکین کے لیے سوال کرنا بھی انسان کو بڑے گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے اور اُس کے ایمان کو کمزور کر دیتا ہے۔
دوم: نجومیوں کا ماخذِ معلومات کیا ہے؟ اور کیا وہ غیب جانتے ہیں؟
عموماً نجومی محض اندازوں، نفسیاتی تجزیوں یا عام معلومات پر انحصار کرتے ہیں جو کسی بھی شخص پر صادق آ سکتی ہیں۔ کبھی کبھار اُن کی کچھ پیش گوئیاں درست ہو جاتی ہیں، لیکن یہ محض اتفاق یا احتمالات کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ اُن کے غیب دان ہونے کی دلیل۔
غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ﴾
(النمل: ٦٥)
﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ﴾
(الأنعام: ٥٩)
یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی بذاتِ خود غیب نہیں جانتے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے کسی بات سے آگاہ فرمائے۔ نبی ﷺ سے فرمایا گیا:
﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾
(الأعراف: ١٨٨)
سوم: ہم اپنے ایمانِ بالغیب کو انتہا پسندی کے بغیر کیسے محفوظ رکھیں؟
قرآنِ کریم کے مطابق پانچ امور ایسے ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جنہیں مفاتیحُ الغیب کہا گیا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾
(لقمان: ٣٤)
اسی طرح ضروری ہے کہ ہم جھوٹے عاملوں اور نجومیوں سے مکمل اجتناب کریں، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مشروع اسباب اختیار کریں۔
چہارم: لوگ کبھی کبھار نجومیوں کی باتوں پر یقین کیوں کر لیتے ہیں؟
اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلاً اتفاق، احتمالات، اور نفسیاتی حربے۔ نجومی اکثر مبہم اور عام جملے استعمال کرتے ہیں جو مختلف حالات پر فِٹ ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے کہا جاتا ہے:
“نجومی جھوٹ بولتے ہیں، خواہ وہ کبھی اتفاقاً سچ ہی کیوں نہ کہہ دیں۔”
اختتامیہ
اسلام ایمان بالغیب کو عقیدے کی بنیاد قرار دیتا ہے، مگر وہم و خرافات سے پاک راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نجومیوں اور فالگیروں پر اعتماد نہ صرف دینی طور پر باطل ہے بلکہ عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد یاد رکھنے کے لائق ہے:
﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ﴾
(الفرقان: ٥٨)