نجوم بینی: شرعی اور عقلی جائزہ

  • 11 جنوری 2026
نجوم بینی: شرعی اور عقلی جائزہ

     ہر نئے عیسوی سال کے آغاز پر نجومیوں اور فالگیروں کی پیش گوئیاں سامنے آتی ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ مستقبل کے واقعات جانتے ہیں۔ کبھی کبھار اُن کی بعض باتیں درست بھی نکل آتی ہیں تو لوگوں کا تجسس بڑھ جاتا ہے اور یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ آیا ان کی بات سننا جائز ہے یا نہیں، اور ان کے اقوال کس حد تک معتبر ہیں۔ اس لیے ہم اِن سوالات کا جواب شرعی اور عقلی نقطۂ نظر سے پیش کرتے ہیں۔

یِکم: کیا نجومیوں اور فالگیروں کی بات سننا محض تجسس کے طور پر بھی جائز ہے؟

اسلام نجومیوں اور فالگیروں سے تعلق رکھنے سے سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَتَىٰ عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا»
(صحیح مسلم)

اور آپ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَتَىٰ كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنزِلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ ﷺ»
(سنن ابی داؤد)

یہاں کفر سے مراد وہ کفر نہیں جو اسلام سے خارج کر دیتا ہے، بلکہ یہ ایک سخت وعید ہے جو عقیدۂ صحیحہ کی مخالفت کو ظاہر کرتی ہے۔ محض تجسس یا دل کی تسکین کے لیے سوال کرنا بھی انسان کو بڑے گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے اور اُس کے ایمان کو کمزور کر دیتا ہے۔

دوم: نجومیوں کا ماخذِ معلومات کیا ہے؟ اور کیا وہ غیب جانتے ہیں؟

عموماً نجومی محض اندازوں، نفسیاتی تجزیوں یا عام معلومات پر انحصار کرتے ہیں جو کسی بھی شخص پر صادق آ سکتی ہیں۔ کبھی کبھار اُن کی کچھ پیش گوئیاں درست ہو جاتی ہیں، لیکن یہ محض اتفاق یا احتمالات کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ اُن کے غیب دان ہونے کی دلیل۔

غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ﴾
(النمل: ٦٥)

﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ﴾
(الأنعام: ٥٩)

یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی بذاتِ خود غیب نہیں جانتے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے کسی بات سے آگاہ فرمائے۔ نبی ﷺ سے فرمایا گیا:

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ﴾
(الأعراف: ١٨٨)

سوم: ہم اپنے ایمانِ بالغیب کو انتہا پسندی کے بغیر کیسے محفوظ رکھیں؟

قرآنِ کریم کے مطابق پانچ امور ایسے ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جنہیں مفاتیحُ الغیب کہا گیا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾
(لقمان: ٣٤)

اسی طرح ضروری ہے کہ ہم جھوٹے عاملوں اور نجومیوں سے مکمل اجتناب کریں، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مشروع اسباب اختیار کریں۔

چہارم: لوگ کبھی کبھار نجومیوں کی باتوں پر یقین کیوں کر لیتے ہیں؟

اس کی کئی وجوہات ہیں، مثلاً اتفاق، احتمالات، اور نفسیاتی حربے۔ نجومی اکثر مبہم اور عام جملے استعمال کرتے ہیں جو مختلف حالات پر فِٹ ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے کہا جاتا ہے:
“نجومی جھوٹ بولتے ہیں، خواہ وہ کبھی اتفاقاً سچ ہی کیوں نہ کہہ دیں۔”

اختتامیہ

اسلام ایمان بالغیب کو عقیدے کی بنیاد قرار دیتا ہے، مگر وہم و خرافات سے پاک راستہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نجومیوں اور فالگیروں پر اعتماد نہ صرف دینی طور پر باطل ہے بلکہ عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد یاد رکھنے کے لائق ہے:

﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ﴾
(الفرقان: ٥٨)

Print
Tags:

Please login or register to post comments.

 

ثباتِ اقدار سے اخلاقی قدروں کے زوال تک!
جمعه, 20 فروری, 2026
        فکری تحفظ (امنِ فکری) معاشروں میں جامع سلامتی کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر استحکام کی دیگر تمام صورتیں قائم ہوتی ہیں؛ کیونکہ فکر کی سلامتی اور مضبوط حوالہ جاتی اساس فردی اور...
تزکیۂ نفس: انتہاپسندی کے خلاف مؤثر دفاعی خط
جمعه, 20 فروری, 2026
      قرآنِ کریم کی روشنی میں نفس سے مراد انسان کا باطن، روح اور اس کی حقیقی ذات ہے۔ نفس کی پاکیزگی کو تزکیۂ نفس کہا جاتا ہے۔ تزکیۂ نفس وہ روحانی عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے باطن کو گناہوں اور برائیوں سے پاک کرتا ہے۔ یہی عمل...
عرب اور مسلم ممالک کی افواج میں غیر مسلموں کی شمولیت
جمعرات, 29 جنوری, 2026
     روزہ اسلام کے ان بنیادی ارکان میں سے ہے جن کا ذکر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کئی احادیث میں فرمایا ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ ظاہر ہے کہ روزہ فجر کے طلوع سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے...
1345678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

روزه اور قرآن
  رمضان  كے رروزے ركھنا، اسلام كے پانچ  بنيادى   اركان ميں سے ايك ركن ہے،  يہ  ہر مسلمان بالغ ،عاقل ، صحت...
اتوار, 24 اپریل, 2022
حجاب اسلام كا بنيادى حصہ
جمعه, 25 مارچ, 2022
اولاد کی صحیح تعلیم
اتوار, 6 فروری, 2022
اسلام ميں حقوقٍ نسواں
اتوار, 6 فروری, 2022
12345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345678910Last