رجب کے مہینے میں مسلمان ہر سال ایک نہایت عزیز دینی واقعے کی یاد تازہ کرتے ہیں، اور وہ ہے اسراء و معراج کی یاد۔ یہ وہ عظیم واقعہ ہے جس کا ذکر خود قرآنِ کریم میں بھی آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) "پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے" [ الاسراء: 1]
ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سفر حضور اكرم ﷺ کے لیے تسلی، دلجوئی اور مواساۃ کا ذریعہ تھا، خاص طور پر اُس سخت اذیت کے بعد جو آپ کو اہلِ مکہ کی طرف سے پہنچی تھی، اور اُس غم کے بعد جو آپ کو اپنی رفیقۂ حیات سیدہ خدیجہؓ اور اپنے چچا ابوطالب کی وفات پر ہوا۔
اس معجزے کے حوالے سے ہمیں چند باتوں پر ضرور غور کرنا چاہیے:
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ حد سے بڑھ کر یہ کہنے لگے کہ یہ واقعہ ہوا ہی نہیں، یا یہ کہ یہ عقل و منطق سے بعید ہے۔ یہ خیال نہایت خطرناک اور گمراہ کن ہے، کیونکہ یہ دراصل قرآنِ کریم کے صریح بیان کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ واقعۂ اسراء کا ذکر واضح طور پر سورۃ الإسراء کی پہلی آیت میں موجود ہے، جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
(سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ) "پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے ۔"
یہاں لفظ "سبحان" اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی عجیب و عظیم معجزہ ہے جو عام انسانی قدرت سے ماورا ہے۔
جہاں تک معراج کا تعلق ہے تو اس کا ذکر سورۃ النجم میں بڑی وضاحت کے ساتھ آیا ہے، جہاں فرمایا گیا:
"وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ (3) إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ (4) عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلۡقُوَىٰ (5) ذُو مِرَّةٖ فَٱسۡتَوَىٰ (6) وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ (7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (8) فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ (9) فَأَوۡحَىٰٓ إِلَىٰ عَبۡدِهِۦ مَآ أَوۡحَىٰ (10) مَا كَذَبَ ٱلۡفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ (11) أَفَتُمَٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ (12) وَلَقَدۡ رَءَاهُ نَزۡلَةً أُخۡرَىٰ (13) عِندَ سِدۡرَةِ ٱلۡمُنتَهَىٰ (14) عِندَهَا جَنَّةُ ٱلۡمَأۡوَىٰٓ (15) إِذۡ يَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا يَغۡشَىٰ (16) مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ (17) لَقَدۡ رَأَىٰ مِنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ (18)" : [اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں ۔وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے ۔اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے ۔جو زور آور ہے پھر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا ۔اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا ۔پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا ۔پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم ۔پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچا ئی ۔دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے ( پیغمبر نے ) دیکھا ۔کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو ( پیغمبر ) دیکھتے ہیں ۔اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا ۔سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ۔اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے ۔جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی ۔نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی ۔یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں ۔]
یہ آیات اس بات پر واضح اور قطعی دلیل ہیں کہ حضور اكرم ﷺ کا معراج حقیقی واقعہ تھا — محض خواب یا تصور نہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروایا۔
اس واقعے کے ثبوت میں صرف قرآنِ کریم ہی نہیں بلکہ درجنوں صحیح احادیث بھی موجود ہیں۔ نبیِ اکرم ﷺ سے واقعۂ معراج کے بارے میں پینتالیس (45) صحابۂ کرامؓ نے روایت کی ہے، اور حدیث کے علما کے نزدیک جب اتنے زیادہ راوی ایک ہی بات نقل کریں تو اسے “تواتر” کہا جاتا ہے۔
علمِ حدیث میں تواتر کا مطلب یہ ہے کہ کسی بات کے جھوٹ ہونے کا تصور ہی ممکن نہیں، کیونکہ اتنے زیادہ صحابہ کا اتفاقِ رائے جھوٹ یا غلطی پر نہیں ہو سکتا۔ یہ بات یقینِ قطعی پیدا کرتی ہے کہ واقعہ واقعی پیش آیا۔
اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھیں تو مثال کے طور پر اگر پانچ، چھ یا دس لوگ تمہیں یہ بتائیں کہ “فلاں سڑک بند ہے کیونکہ وہاں مرمت کا کام چل رہا ہے”، تو تمہیں اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی وہ سڑک بند ہے۔
تو پھر سوچو — جب پینتالیس ایسے عظیم ہستیوں نے، جن کی اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں تعریف فرمائی ہے، ایک ہی بات بیان کی ہو، تو اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ یہ یقین کامل ہے کہ واقعۂ معراج حق ہے اور یقینی طور پر پیش آیا۔
دوسرى بات يہ ہے کہ معجزات عقل کے خلاف نہیں ہوتیں، بلکہ وہ صرف عادت کے خلاف (خَرقِ عادت) ہوتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی معمول کی عادت یہ تھی کہ مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر تقریباً دو مہینے لیتا تھا — ایک مہینہ آنے میں اور ایک جانے میں۔ لیکن آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ایک یا دو گھنٹے میں ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتا ہے، اور کوئی تعجب بھی نہیں کرتا۔ بس یہی خرقِ عادت کہلاتا ہے — یعنی وہ واقعہ جو عام انسانی تجربے سے بالاتر ہو، مگر عقل اس کے امکان کو رد نہیں کرتی۔اسی لیے معجزہ “عقلی طور پر ناممکن” نہیں، بلکہ صرف “غیر معمولی” ہوتا ہے۔
جدید سائنسی ترقی نے بھی اب اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ لمبی مسافتیں مختصر وقت میں طے کرنا ممکن ہے، لہٰذا واقعۂ اسراء و معراج کو عقل یا علم کے پیمانوں پر ناممکن کہنا درست نہیں۔
یہ معجزہ دراصل اہلِ مکہ کے انکار اور تکبر کے مقابل ایک کھلا چیلنج بھی تھا، جو نبیِ اکرم ﷺ کی ہر بات کو جھٹلانے پر تلے ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کے سامنے بیت المقدس کی باریک تفصیلات بیان کر دیں، جنہیں وہ خود جانتے تھے، مگر پھر بھی انکار کر دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "جب حضور اكرم ﷺ کو مسجدِ اقصیٰ کی سیر کرائی گئی، تو صبح کے وقت آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ خبر دی۔ کچھ لوگ جو پہلے ایمان لا چکے تھے، مرتد ہوگئے۔ مشرکین دوڑے دوڑے حضرت ابوبکرؓ کے پاس پہنچے اور کہا: کیا تمہارے دوست کا خیال ہے کہ وہ ایک ہی رات میں بیت المقدس گیا اور واپس آگیا؟ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا: کیا واقعی اس نے یہ فرمایا؟’انہوں نے کہا: ‘ہاں۔’ حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا: ‘اگر اس نے یہ فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا۔
میں تو اس سے بھی زیادہ بات پر ایمان رکھتا ہوں — میں تو اس کی بات کو مانتا ہوں جب وہ آسمان کی خبریں لاتا ہے صبح و شام
اسی وجہ سے انہیں "صدیق" کا لقب دیا گیا۔
یہ بات ہمیں تیسرے نکتے کی طرف لے جاتی ہے، اور وہ یہ کہ اس طرح کی یقینی خبروں پر ایمان رکھنا دین کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ کیونکہ معرفت کا ذریعہ صرف حواس نہیں، بلکہ اسلام میں معرفت کے اہم ذرائع میں سے ایک وحی بھی ہے۔
اسی لیے انبیاءِ کرام کے معجزات پر حملہ کرنا یا انہیں “آزادیِ رائے” کے نام پر جھٹلانا ناقابلِ قبول ہے، کیونکہ یہ امور الٰہی حقیقتیں ہیں جنہیں مخلوق کے محدود قوانین یا انسانی تجربات کے پیمانے سے نہیں تولا جا سکتا۔
انہیں تو اس خالقِ کائنات کی قدرت کے مطابق سمجھنا چاہیے، جس نے ان واقعات کو وقوع میں لانے کا ارادہ فرمایا۔
چنانچہ جب ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے، جو زمین و آسمان میں کسی چیز سے عاجز نہیں، تو پھر سیدنا ابراہیمؑ کا آگ سے بچ جانا، سیدنا موسیٰؑ کے عصا کا اژدھا بن جانا، یا سیدنا عیسیٰؑ کا مردوں کو زندہ کرنا — یہ سب واقعات عقل کے دائرے سے باہر نہیں رہتے بلکہ پوری طرح ایمان کے مطابق قابلِ فہم ہو جاتے ہیں۔ جب ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ جو چاہے، جیسے چاہے کر سکتا ہے، تو پھر کسی معجزے کا وقوع عقلاً یا ایماناً دشوار نہیں رہتا۔
لہٰذا بہتر ہے کہ ہم شک پیدا کرنے کے اس رجحان سے دور رہیں، جسے بعض لوگ صرف ہنگامہ برپا کرنے یا عقائد پر حملہ کرنے کے لیے پھیلاتے ہیں۔ اس کے بجائے ہمیں سیرتِ نبویﷺ کے ان عظیم واقعات سے سبق اور نصیحت حاصل کرنی چاہیے —کیونکہ ہر آزمائش میں کوئی نہ کوئی نعمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستہ رہیں، اس کے اسباق کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اسی میں اپنی کامیابی تلاش کریں۔