کیا تشدد مذہب سے جنم لیتا ہے؟

  • 21 جنوری 2026
کیا تشدد مذہب سے جنم لیتا ہے؟

     عوامی تشدد کے واقعات اب محض عارضی خبریں نہیں رہے، بلکہ وہ سماجی شعور، میڈیا کے بیانیے، اور معاشروں کی اس صلاحیت کا امتحان بن چکے ہیں کہ وہ جرم کو ایک انفرادی فعل کے طور پر اور مذہب کو ایک اخلاقی و انسانی اقدار کے نظام کے طور پر الگ الگ سمجھ سکیں۔ ایسے میں سڈنی کے ایک ساحل پر پیش آنے والے حملے کا واقعہ اور آسام میں ایک مسجد کے امام کی جانب سے ہندوؤں کو بچانے کا واقعہ، میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک وسیع بحث کا باعث بنے، کیونکہ ان واقعات کو مذہبی یا ثقافتی پس منظر سے جوڑنے کی کوششیں کی گئیں، جبکہ ایک بنیادی حقیقت کو اکثر نظر انداز کر دیا گیا: یہ کہ مجرمانہ افعال انسان کے اپنے فکر اور انتخاب کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ اس کے مذہب کا۔

یہ بحث اکثر ٹھوس حقائق کے بجائے جذبات، تعصبات اور کسی خاص مذہب کے خلاف جھکاؤ پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی تناظر ہمیں ایک بار پھر اس بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا تشدد مذہب سے جنم لیتا ہے، یا انسان کے اس فکر سے جو کسی بھی نظریاتی یا مذہبی فریم ورک کو غلط طور پر استعمال کرتا ہے؟

اوّل: جرم ایک انفرادی فعل ہے، اجتماعی شناخت نہیں

قانونی اور سماجی نقطۂ نظر سے جرم ایک انفرادی فعل ہے، جس پر فرد کو ذاتی طور پر جواب دہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق کسی ایک شخص کے عمل کی ذمہ داری کسی پوری مذہبی یا ثقافتی جماعت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس کے باوجود، جب ملزم مسلمان ہو، تو میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ اصول کمزور پڑ جاتا ہے، اور سوال “اس نے کیا کیا؟” سے بدل کر “وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے؟” بن جاتا ہے۔

یہ زاویۂ نظر حقیقت تک پہنچانے کے بجائے گمراہ کن عمومی نتائج کو جنم دیتا ہے، اور ان نفسیاتی، سماجی اور فکری عوامل کو نظر انداز کر دیتا ہے جو تشدد کے حقیقی محرک ہوتے ہیں۔ تشدد کبھی کسی ایک مذہب یا ثقافت کی اجارہ داری نہیں رہا، بلکہ یہ ایک پیچیدہ انسانی مظہر ہے جس میں فرد کی نفسیاتی کیفیت، سماجی حالات اور بعض اوقات گمراہ کن نظریات شامل ہوتے ہیں۔ سماجیات کے ماہرین بار بار اس امر پر زور دے چکے ہیں کہ تشدد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اور جرائم کو اسلام یا کسی اور عقیدے سے جوڑنا نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتا ہے بلکہ نفرت کو بھی ہوا دیتا ہے۔

اسلام، دیگر مذاہب کی طرح، انسانی جان کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے اور بے گناہوں پر حملے کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ سڈنی کا واقعہ اس حقیقت کی واضح مثال تھا: ایک طرف حملہ، اور دوسری طرف انسانی ہمدردی، ذمہ داری اور یکجہتی۔ اس تضاد نے کسی مخصوص مذہب کے ساتھ تشدد کو جوڑنے کی ہر کوشش کو کمزور کر دیا، اور یہ ثابت کیا کہ فیصلہ کن عنصر مذہب نہیں بلکہ انسان کا فکر اور اس کا انتخاب ہوتا ہے۔

اسی طرح آسام، بھارت میں پیش آنے والا واقعہ بھی ایک روشن انسانی مثال بن کر سامنے آیا، جہاں ایک مسجد کے امام نے سات ہندو مسافروں کو ڈوبنے سے بچایا۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے دی گئی پکار کوئی مذہبی نعرہ نہیں تھی، بلکہ ایک انسان کی دوسرے انسان سے مدد کی اپیل تھی۔ چند ہی لمحوں میں گاؤں کے مسلمان اکٹھے ہو گئے اور بلا کسی مذہبی شناخت کے سوال کے، سات جانوں کو بچا لیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا عملی ثبوت تھا کہ انسانیت نہ رنگ جانتی ہے، نہ مذہب۔

دوم: اسلام—اقدار کا نظام، تشدد کی توجیہ نہیں

اسلام، قرآن و سنت اور اپنی تاریخی روایت میں، انسانی جان کے تحفظ کو بنیادی قدر قرار دیتا ہے، اور بے گناہوں پر حملے کو ایک سنگین اخلاقی جرم سمجھتا ہے۔ جو لوگ تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ نہ کسی دین کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ کسی جماعت کی؛ وہ صرف اپنے عمل کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور قانون کے مطابق ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ قرآنِ کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے: ﴿وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾
" اور زیادتی نہ کرو ، اللہ تعالٰی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ " (البقرہ: 190)- لہذا اسلام کو اُن اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جو اس کے بنیادی اصولوں سے قطعًا متصادم ہے۔اور اصل  مسئلہ اسلامى نصوص میں نہیں بلکہ انہيں ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک مختلف انداز میں پیش کرنے میں ہے۔

سارے مذاہب، بشمول اسلام، خودکار نظام نہیں جو اپنے پیروکاروں سے یکساں اعمال پیدا کریں؛ وہ اخلاقی فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جن سے افراد اپنے شعور اور انتخاب کے مطابق تعامل کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ دین کو اکثر الزام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی مثبت اور انسان دوست مثالوں کو میڈیا میں وہی جگہ نہیں ملتی جو تشدد کو ملتی ہے۔

سوم: میڈیا اور عوامی بیانیے کی ذمہ داری

سماجی تصورات کی تشکیل میں میڈیا کا کردار مرکزی ہے۔ جب میڈیا جرم کو مذہبی شناخت سے جوڑ کر پیش کرتا ہے، اور انسانی ہمدردی اور نجات کے واقعات کو نظر انداز کر دیتا ہے، تو وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر منفی تصورات کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقی غیر جانب داری کا مطلب خاموشی نہیں، بلکہ  انصاف اور توازن ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ جرم کو فرد کے فعل کے طور پر پیش کرے، نہ کہ کسی پورے مذہب کے خلاف فردِ جرم کے طور پر۔ اصل بات مذاہب کے درمیان نہیں، بلکہ اس فکر کے درمیان ہے جو انسانیت کا احترام کرتا ہے اور اس فکر کے درمیان جو تشدد کو جواز فراہم کرتا ہے۔

چہارم: جواب انسان میں ہے، دین میں نہیں

یہ تمام مناظر ہمیں ایک ناقابلِ تردید حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں: خیر اور شر کسی مذہب میں نہیں، بلکہ انسان کے انتخاب میں ہوتے ہیں۔ ایک نے تشدد کا راستہ چنا، دوسرے نے جان بچانے کا۔ اور اسلام اس معادلے میں نہ کسی جرم کا دفاع کرتا ہے اور نہ اپنی اقدار کے لیے معذرت کا محتاج ہے۔ اسے صرف ایک منصفانہ قرأت کی ضرورت ہے، جو دین کو افراد کے اعمال سے الگ کر کے دیکھے۔ جرائم کو اسلام کے خلاف ہتھیار بنانا نہ انصاف ہے اور نہ ہی تشدد کے اسباب کا حل۔ مسئلہ مذاہب میں نہیں، بلکہ گمراہ کن افکار میں ہے، اور حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ فہم و شعور میں پوشیدہ ہے۔

آخرکار، نہ دین جرم پیدا کرتا ہے اور نہ ہی فضیلت پر اجارہ داری رکھتا ہے۔ انسان خود اپنا راستہ چنتا ہے، فکر اس کا محرک ہوتی ہے، اور انصاف ہی اصل معیار ہے۔ اور یہ روشن مثالیں، جن میں انسانی جان کے تحفظ کو اعلیٰ ترین قدر سمجھا گیا، اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ اسلام امن، رحمت اور انسانیت کا دین ہے، اور تشدد و نفرت سے مکمل طور پر بری ہے۔ یہ واقعات ایک عالمی پیغام ہیں کہ مردِ مومن اور سچے مسلمان امن کا علمبردار ہوتا ہے، اور اسلامی تعلیمات کی عظمت ہر اس جھوٹے بیانیے کو رد کر دیتی ہے جو اسلام کو تشدد اور دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

 

Print
Tags:

Please login or register to post comments.

 

ثباتِ اقدار سے اخلاقی قدروں کے زوال تک!
جمعه, 20 فروری, 2026
        فکری تحفظ (امنِ فکری) معاشروں میں جامع سلامتی کے اہم ترین ستونوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر استحکام کی دیگر تمام صورتیں قائم ہوتی ہیں؛ کیونکہ فکر کی سلامتی اور مضبوط حوالہ جاتی اساس فردی اور...
تزکیۂ نفس: انتہاپسندی کے خلاف مؤثر دفاعی خط
جمعه, 20 فروری, 2026
      قرآنِ کریم کی روشنی میں نفس سے مراد انسان کا باطن، روح اور اس کی حقیقی ذات ہے۔ نفس کی پاکیزگی کو تزکیۂ نفس کہا جاتا ہے۔ تزکیۂ نفس وہ روحانی عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے باطن کو گناہوں اور برائیوں سے پاک کرتا ہے۔ یہی عمل...
عرب اور مسلم ممالک کی افواج میں غیر مسلموں کی شمولیت
جمعرات, 29 جنوری, 2026
     روزہ اسلام کے ان بنیادی ارکان میں سے ہے جن کا ذکر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کئی احادیث میں فرمایا ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ ظاہر ہے کہ روزہ فجر کے طلوع سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے...
1345678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
12345678910Last

روزه اور قرآن
  رمضان  كے رروزے ركھنا، اسلام كے پانچ  بنيادى   اركان ميں سے ايك ركن ہے،  يہ  ہر مسلمان بالغ ،عاقل ، صحت...
اتوار, 24 اپریل, 2022
حجاب اسلام كا بنيادى حصہ
جمعه, 25 مارچ, 2022
اولاد کی صحیح تعلیم
اتوار, 6 فروری, 2022
اسلام ميں حقوقٍ نسواں
اتوار, 6 فروری, 2022
12345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345678910Last