عوامی تشدد کے واقعات اب محض عارضی خبریں نہیں رہے، بلکہ وہ سماجی شعور، میڈیا کے بیانیے، اور معاشروں کی اس صلاحیت کا امتحان بن چکے ہیں کہ وہ جرم کو ایک انفرادی فعل کے طور پر اور مذہب کو ایک اخلاقی و انسانی اقدار کے نظام کے طور پر الگ الگ سمجھ سکیں۔ ایسے میں سڈنی کے ایک ساحل پر پیش آنے والے حملے کا واقعہ اور آسام میں ایک مسجد کے امام کی جانب سے ہندوؤں کو بچانے کا واقعہ، میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک وسیع بحث کا باعث بنے، کیونکہ ان واقعات کو مذہبی یا ثقافتی پس منظر سے جوڑنے کی کوششیں کی گئیں، جبکہ ایک بنیادی حقیقت کو اکثر نظر انداز کر دیا گیا: یہ کہ مجرمانہ افعال انسان کے اپنے فکر اور انتخاب کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ اس کے مذہب کا۔
یہ بحث اکثر ٹھوس حقائق کے بجائے جذبات، تعصبات اور کسی خاص مذہب کے خلاف جھکاؤ پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی تناظر ہمیں ایک بار پھر اس بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا تشدد مذہب سے جنم لیتا ہے، یا انسان کے اس فکر سے جو کسی بھی نظریاتی یا مذہبی فریم ورک کو غلط طور پر استعمال کرتا ہے؟
اوّل: جرم ایک انفرادی فعل ہے، اجتماعی شناخت نہیں
قانونی اور سماجی نقطۂ نظر سے جرم ایک انفرادی فعل ہے، جس پر فرد کو ذاتی طور پر جواب دہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق کسی ایک شخص کے عمل کی ذمہ داری کسی پوری مذہبی یا ثقافتی جماعت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس کے باوجود، جب ملزم مسلمان ہو، تو میڈیا کے بعض حلقوں میں یہ اصول کمزور پڑ جاتا ہے، اور سوال “اس نے کیا کیا؟” سے بدل کر “وہ کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے؟” بن جاتا ہے۔
یہ زاویۂ نظر حقیقت تک پہنچانے کے بجائے گمراہ کن عمومی نتائج کو جنم دیتا ہے، اور ان نفسیاتی، سماجی اور فکری عوامل کو نظر انداز کر دیتا ہے جو تشدد کے حقیقی محرک ہوتے ہیں۔ تشدد کبھی کسی ایک مذہب یا ثقافت کی اجارہ داری نہیں رہا، بلکہ یہ ایک پیچیدہ انسانی مظہر ہے جس میں فرد کی نفسیاتی کیفیت، سماجی حالات اور بعض اوقات گمراہ کن نظریات شامل ہوتے ہیں۔ سماجیات کے ماہرین بار بار اس امر پر زور دے چکے ہیں کہ تشدد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اور جرائم کو اسلام یا کسی اور عقیدے سے جوڑنا نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتا ہے بلکہ نفرت کو بھی ہوا دیتا ہے۔
اسلام، دیگر مذاہب کی طرح، انسانی جان کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے اور بے گناہوں پر حملے کو سختی سے ممنوع قرار دیتا ہے۔ سڈنی کا واقعہ اس حقیقت کی واضح مثال تھا: ایک طرف حملہ، اور دوسری طرف انسانی ہمدردی، ذمہ داری اور یکجہتی۔ اس تضاد نے کسی مخصوص مذہب کے ساتھ تشدد کو جوڑنے کی ہر کوشش کو کمزور کر دیا، اور یہ ثابت کیا کہ فیصلہ کن عنصر مذہب نہیں بلکہ انسان کا فکر اور اس کا انتخاب ہوتا ہے۔
اسی طرح آسام، بھارت میں پیش آنے والا واقعہ بھی ایک روشن انسانی مثال بن کر سامنے آیا، جہاں ایک مسجد کے امام نے سات ہندو مسافروں کو ڈوبنے سے بچایا۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے دی گئی پکار کوئی مذہبی نعرہ نہیں تھی، بلکہ ایک انسان کی دوسرے انسان سے مدد کی اپیل تھی۔ چند ہی لمحوں میں گاؤں کے مسلمان اکٹھے ہو گئے اور بلا کسی مذہبی شناخت کے سوال کے، سات جانوں کو بچا لیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا عملی ثبوت تھا کہ انسانیت نہ رنگ جانتی ہے، نہ مذہب۔
دوم: اسلام—اقدار کا نظام، تشدد کی توجیہ نہیں
اسلام، قرآن و سنت اور اپنی تاریخی روایت میں، انسانی جان کے تحفظ کو بنیادی قدر قرار دیتا ہے، اور بے گناہوں پر حملے کو ایک سنگین اخلاقی جرم سمجھتا ہے۔ جو لوگ تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ نہ کسی دین کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ کسی جماعت کی؛ وہ صرف اپنے عمل کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور قانون کے مطابق ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ قرآنِ کریم میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے: ﴿وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾
" اور زیادتی نہ کرو ، اللہ تعالٰی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ۔ " (البقرہ: 190)- لہذا اسلام کو اُن اعمال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جو اس کے بنیادی اصولوں سے قطعًا متصادم ہے۔اور اصل مسئلہ اسلامى نصوص میں نہیں بلکہ انہيں ان کے سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک مختلف انداز میں پیش کرنے میں ہے۔
سارے مذاہب، بشمول اسلام، خودکار نظام نہیں جو اپنے پیروکاروں سے یکساں اعمال پیدا کریں؛ وہ اخلاقی فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جن سے افراد اپنے شعور اور انتخاب کے مطابق تعامل کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ دین کو اکثر الزام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی مثبت اور انسان دوست مثالوں کو میڈیا میں وہی جگہ نہیں ملتی جو تشدد کو ملتی ہے۔
سوم: میڈیا اور عوامی بیانیے کی ذمہ داری
سماجی تصورات کی تشکیل میں میڈیا کا کردار مرکزی ہے۔ جب میڈیا جرم کو مذہبی شناخت سے جوڑ کر پیش کرتا ہے، اور انسانی ہمدردی اور نجات کے واقعات کو نظر انداز کر دیتا ہے، تو وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر منفی تصورات کو فروغ دیتا ہے۔ حقیقی غیر جانب داری کا مطلب خاموشی نہیں، بلکہ انصاف اور توازن ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ جرم کو فرد کے فعل کے طور پر پیش کرے، نہ کہ کسی پورے مذہب کے خلاف فردِ جرم کے طور پر۔ اصل بات مذاہب کے درمیان نہیں، بلکہ اس فکر کے درمیان ہے جو انسانیت کا احترام کرتا ہے اور اس فکر کے درمیان جو تشدد کو جواز فراہم کرتا ہے۔
چہارم: جواب انسان میں ہے، دین میں نہیں
یہ تمام مناظر ہمیں ایک ناقابلِ تردید حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں: خیر اور شر کسی مذہب میں نہیں، بلکہ انسان کے انتخاب میں ہوتے ہیں۔ ایک نے تشدد کا راستہ چنا، دوسرے نے جان بچانے کا۔ اور اسلام اس معادلے میں نہ کسی جرم کا دفاع کرتا ہے اور نہ اپنی اقدار کے لیے معذرت کا محتاج ہے۔ اسے صرف ایک منصفانہ قرأت کی ضرورت ہے، جو دین کو افراد کے اعمال سے الگ کر کے دیکھے۔ جرائم کو اسلام کے خلاف ہتھیار بنانا نہ انصاف ہے اور نہ ہی تشدد کے اسباب کا حل۔ مسئلہ مذاہب میں نہیں، بلکہ گمراہ کن افکار میں ہے، اور حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ فہم و شعور میں پوشیدہ ہے۔
آخرکار، نہ دین جرم پیدا کرتا ہے اور نہ ہی فضیلت پر اجارہ داری رکھتا ہے۔ انسان خود اپنا راستہ چنتا ہے، فکر اس کا محرک ہوتی ہے، اور انصاف ہی اصل معیار ہے۔ اور یہ روشن مثالیں، جن میں انسانی جان کے تحفظ کو اعلیٰ ترین قدر سمجھا گیا، اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ اسلام امن، رحمت اور انسانیت کا دین ہے، اور تشدد و نفرت سے مکمل طور پر بری ہے۔ یہ واقعات ایک عالمی پیغام ہیں کہ مردِ مومن اور سچے مسلمان امن کا علمبردار ہوتا ہے، اور اسلامی تعلیمات کی عظمت ہر اس جھوٹے بیانیے کو رد کر دیتی ہے جو اسلام کو تشدد اور دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔