روزہ اسلام کے ان بنیادی ارکان میں سے ہے جن کا ذکر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کئی احادیث میں فرمایا ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ ظاہر ہے کہ روزہ فجر کے طلوع سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رہنے کا نام ہے، لیکن بعض لوگ دل میں یہ سوال کرتے ہیں کہ کھانے پینے اور محبوب چیزوں سے رک جانا کیا انسان کے لیے اذیت نہیں؟
1- روزہ کا مقصد مسلمانوں کو کھانے پینے یا نفسانی خواہشات سے محروم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے ایک نہایت اہم حقیقت پوشیدہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آیتِ فرضیتِ صوم میں بیان فرمایا: ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
یعنی " تاکہ تمہارے اندر تقوی پیدا ہو "۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کا ایک بڑا مقصد نفس کی تہذیب اور اصلاح ہے، تاکہ انسان اپنے رب، مخلوق بلکہ اپنے نفس کے ساتھ بھی اچھے اخلاق اختیار کرے۔ یہی بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اس نصیحت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا: "مَنِ اسْتَطَاعَ البَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ" یعنی جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، کیونکہ یہ نظر کو جھکانے اور شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزہ رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے خواہشات پر قابو پانے کا ذریعہ ہے۔
پس روزے کا ایک اہم مقصد نفس پر قابو پانا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو اُن چیزوں سے روکتا ہے جو اللہ نے حلال قرار دی ہیں، وہ ان شاء اللہ اُن چیزوں سے بھی اپنے آپ کو روکنے کی قدرت رکھتا ہے جنہیں اللہ نے حرام فرمایا ہے۔ اسی لیے لوگ رمضان میں ایک خاص روحانیت محسوس کرتے ہیں، اور محسوس ہوتا ہےکہ یہ روحانیت نفس پر غلبہ پانے اور اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں مسلمان تقویٰ سیکھتے ہیں۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
"الصَّوْمُ جُنَّةٌ" یعنی روزہ ڈھال ہے — دنیا کی آفتوں سے بچاؤ کا ذریعہ اور آخرت کے عذاب سے پردہ ہے۔ اسی کے ساتھ روزے میں جسمانی فوائد بھی پوشیدہ ہیں، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا: "صُومُوا تَصِحُّوا" یعنی روزہ رکھو، صحت مند ہو جاؤ۔
۲- نیز روزہ صرف کھانے پینے اور شہوت سے باز رہنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہمیں ایسے احادیث بھی ملتی ہیں جو روزے کی حقیقت کو ایک نئی جہت دیتی ہیں، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد ہے: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ، فَلَيْسَ لِلّٰهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ" یعنی جو شخص جھوٹ بولنا، جھوٹ پر عمل کرنا اور جہالت نہیں چھوڑتا، اللہ کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
۳- روزہ دراصل اخلاق و اقدار کا مکتب ہے۔ اس میں ہم عظیم اخلاقی صفات اور اعلیٰ انسانی اقدار سیکھتے ہیں، مثلاً صبر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: "وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ" یعنی "روزہ آدھا صبر ہے"۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تعلیم دی: "إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ" یعنی جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو نہ فحش بات کرے، نہ شور مچائے، اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو کہے: "میں روزہ دار ہوں۔"
اور اللہ تعالیٰ نے آیاتِ صیام کے بعد فرمایا: ﴿يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ يعنى " اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔ "
لیکن ذرا غور کیجیے، یہ آسانی آخر کیا معنی رکھتی ہے جب ہم ان مزدوروں کے روزے کو دیکھتے ہیں جو شدید گرمی میں کام کرتے ہیں، یا اُن بھوکوں کو جو خود کھانے کے محتاج ہیں، یا اُن مسلمانوں کو جو شمالی یورپ جیسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں دن بائیس گھنٹے تک طویل ہوتا ہے؟
شمالی یورپ، قطبی خطے اور اُن جیسے ملکوں میں دن اور رات کا نظام عام دنیا سے مختلف ہے، مگر یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کے پاس کئی شرعی حل موجود ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ روزے کے اوقات کو اپنے قریب ترین ایسے ملک کے حساب سے مقرر کریں جہاں دن اور رات کا توازن معتدل ہو۔ یا پھر وہ اہلِ مکہ و مدینہ کے روزوں کے اوقات کے مطابق اندازہ لگائیں۔
بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے علاقے کے لحاظ سے طلوعِ فجرِ صادق سے روزہ شروع کریں، چاہے دن طویل ہو یا مختصر۔
اور افطار کے وقت بھی وہ اس بات کے پابند نہ ہوں کہ سورج مکمل غروب ہو یا روشنی ختم ہوجائے، بلکہ شرعی وقت کے مطابق روزہ کھولیں۔ یہی طریقہ بہترین اور زیادہ موزوں ہے، اور یہی رائے دارالافتاء المصریہ کی ایک باقاعدہ شائع شدہ فتویٰ میں بھی بیان کی گئی ہے۔
اور اگر ہم اُن مزدوروں کی بات کریں جو سخت گرمی میں کام کرتے ہیں، تو بہتر یہی ہے کہ ایسے کام رات کے وقت منتقل کر دیے جائیں، تاکہ روزے دار مزدوروں پر بوجھ کم ہو۔ ان کاموں کے مالکان اور نگرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ روزہ داروں کی حالت کا خیال رکھیں اور اُن کے لیے ممکنہ آسانیاں پیدا کریں۔ لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو، اور مزدور اپنے روزگار سے دستبردار نہیں ہو سکتا، تو شریعت نے اس کے لیے بھی گنجائش اور سہولت رکھی ہے۔
علمائے کرام کے نزدیک ایسے حالات میں کوئی تنگی نہیں، بلکہ اگر کسی شخص کو اتنا مشقت بھرا کام کرنا پڑے کہ روزے کی حالت میں اُس کی جان جانے یا شدید نقصان پہنچنے کا غالب گمان ہو، تو اس کے لیے روزہ توڑ دینا جائز ہے۔ دارالافتاء المصریہ کے ایک سرکاری فتویٰ میں اس مسئلے کی وضاحت یوں کی گئی ہے: اگر کوئی شخص ایسا سخت محنت والا کام کرتا ہے جسے وہ رمضان کے دنوں میں چھوڑ نہیں سکتا، کیونکہ اُسے اپنی یا اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرنی ہیں، اور وہ یہ کام نہ رمضان کے بعد ملتوی کر سکتا ہے نہ رات میں منتقل، تو ایسے دنوں میں اس پر روزہ فرض نہیں۔ یہ حکم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو سخت گرمی میں یا طویل اوقات میں کام کرتے ہیں — جیسے معمار، مزدور، بوجھ اٹھانے والے وغیرہ۔ لہٰذا، اس صورت میں کوئی شرعی اشکال باقی نہیں رہتا۔
یوں روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ عبادت کا مقصد تکلیف نہیں، بلکہ تربیت اور تقویٰ کی راہ پر چلنا ہے۔ اور یہی احساس بندے کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔