اللہ تعالیٰ نے قدرتی آفات کیوں پیدا کیے ہیں؟

  • 3 جون 2025
اللہ تعالیٰ نے قدرتی آفات کیوں پیدا کیے ہیں؟

اللہ نے زلزلے اور آتش فشاں جیسے قدرتی آفات کیوں پیدا کیے ہیں؟

یہ سوال دو پہلو رکھتا ہے:
    1.    اللہ تعالیٰ نے ایسی قدرتی آفات کیوں پیدا کیں جو انسان کی زندگی کو تباہ کر دیتی ہیں؟
    2.    کیا یہ آفات اور مہلک بیماریاں خدا کے وجود کی نفی کرتی ہیں یا یہ سب کچھ اس کی مشیّت کے خلاف ہو رہا ہے؟

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ زلزلے، آتش فشاں، سرطان اور دیگر مہلک بیماریاں دراصل اکثر انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔
جب انسان نے ٹیکنالوجی کی ترقی کے زعم میں قدرتی نظام میں مداخلت شروع کی تو اس نے پودوں اور جانوروں کی فطری نشوونما کو متاثر کیا، جو انسان کی غذا کا بنیادی ذریعہ تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک کمزور نسل پیدا ہوئی، اور آنے والی نسلیں بھی بتدریج کمزور ہوتی گئیں۔

مثال کے طور پر:
سرطان ایک ایسا مرض ہے جو خلیاتی نظام میں خلل اور فطری حرکت سے انحراف کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
انسان کی فطرت درج ذیل چیزوں سے متاثر ہوتی ہے:
    •    آلودہ پانی سے
    •    مصنوعی ہارمونز والے جانوروں سے
    •    جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودوں سے

کیا قدرتی نظام میں مداخلت اور اس میں موجود توازن کو بگاڑنا وہی “فساد” نہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے خبردار فرمایا؟

“ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ”
“خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ باز آجائیں۔”
[الروم: 41]

1- زلزلے:

یہ زمین کی تہوں میں قدرتی حرکات کی بنا پر پیدا ہوتے ہیں۔
دنیا میں روزانہ ہزاروں زلزلے آتے ہیں، جن میں سے اکثر محسوس بھی نہیں ہوتے، جبکہ کچھ زلزلے شدید تباہی اور جانی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔

اصل نقصان زلزلے سے زیادہ انسانی غفلت سے ہوتا ہے:
    •    غیر محفوظ اور بلند عمارتیں
    •    تیاری کا فقدان
    •    زلزلے کے دوران گھبراہٹ، بھاگ دوڑ اور ہلاکتیں
    •    بحران سے نمٹنے کی تربیت کی کمی

2- آتش فشاں:
یہ زمین کے اندرونی حصے کی گرمی کے اخراج کا قدرتی ذریعہ ہیں۔
مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان ان کے قریبی علاقوں میں رہائش اختیار کرتا ہے، جہاں تعمیراتی پابندی ہونی چاہیے۔

3- سیلاب:
سیلاب ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتے؛
    •    بعض بتدریج، بارشوں یا برف پگھلنے سے پیش آتے ہیں
    •    بعض اچانک اور خطرناک ہوتے ہیں۔

انسان کی غفلت سیلاب کو آفت میں بدل دیتی ہے:
    •    سیلابی میدانوں میں رہائش
    •    غیر محفوظ تعمیرات
    •    حفاظتی منصوبہ بندی کی کمی
    •    زمین کی زرخیزی میں کمی، جس سے بارش جذب نہیں ہوتی

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قدرتی آفات اور بیماریاں بظاہر خطرناک ہونے کے باوجود کائنات کی عظمت، خالق کے وجود، اور نظامِ ربانی کی گواہی دیتی ہیں۔
یہ نشانیاں انسان کو سوچنے، سبق لینے، اور اصلاحِ احوال کی دعوت دیتی ہیں۔

“لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ”
“نہ سورج کو یہ زیبا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جائے، اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔”
[یٰسٓ: 40]

کائنات میں کوئی چیز اتفاقاً نہیں ہوتی۔ ہر چیز کسی وجہ اور محددہ نظام یا سسٹم کے تحت رواں دواں ہے۔
اگر یہ سب کچھ محض حادثہ ہوتا، تو اس قدر ترتیب، توازن اور بقاء ممکن نہ ہوتی۔

خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کے لیے بھی قدرتی آفات سوچنے کی دعوت ہیں:
    •    کتنے طاقتور لوگ اچانک موت کا شکار ہو جاتے ہیں؟
    •    اور کتنے کمزور لوگ معجزاتی طور پر زندہ بچ جاتے ہیں؟
    •    کتنے بیمار شفا پا لیتے ہیں، اور کتنے تندرست اچانک چل بستے ہیں؟
اللہ تعالیٰ اپنی حکمت، قدرت اور مشیّت کے تحت کائنات کو چلا رہا ہے۔ یہ جقدرتی آفات:
    •    انسان کے اعمال کا نتیجہ ہو سکتی ہیں
    •    اللہ کی طرف رجوع کی دعوت بھی ہو سکتی ہیں
    •    تقدیر اور امتحان کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہیں

انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ عقل سے کام لے، اپنے اعمال پر غور کرے، اور اس دنیا میں اپنے کردار کو بہتر بنائے۔
یہ سب نشانیاں ہیں کہ ایک خدا ہے، جو ہر چیز کا خالق، مدبر اور محافظ ہے۔

Print
Tags:

Please login or register to post comments.

 

یومِ قیامت سے خوف: اعتدال اور توازن کی ضرورت
پير, 22 ستمبر, 2025
    کبھی کبھی کچھ لوگ دنیا کے انجام یا قیامت کے قریب آنے کے خیال سے غیر معمولی خوف اور شدید اضطراب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب بڑے واقعات یا کائناتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہ کیفیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ...
نئے سال اور غیر مسلموں کو مبارکباد دینے کا شرعی و سماجی جائزہ
پير, 25 اگست, 2025
سوال 1: کیا نئے سال کا جشن منانا جائز ہے؟ جواب: نیا سال بذاتِ خود کوئی شرعی تہوار نہیں ہے۔ اسلام میں عید صرف دو ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ تاہم سال کے اختتام یا آغاز پر شکرگزاری کرنا، ماضی پر غور کرنا اور مستقبل کے لیے اچھی نیتیں...
جاہلیت کا صحیح مفہوم اور انتہا پسندوں کا باطل دعویٰ
پير, 25 اگست, 2025
انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے معاشروں پر لگائے جانے والے سب سے خطرناک اور سنگین الزامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انہیں جاہلی معاشرے قرار دیتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے مکہ کا معاشرہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ بدتر۔ ان تنظیموں...
245678910Last

ازہرشريف: چھيڑخوانى شرعًا حرام ہے، يہ ايك قابلِ مذمت عمل ہے، اور اس كا وجہ جواز پيش كرنا درست نہيں
اتوار, 9 ستمبر, 2018
گزشتہ کئی دنوں سے چھيڑ خوانى كے واقعات سے متعلق سوشل ميڈيا اور ديگر ذرائع ابلاغ ميں بہت سى باتيں كہى جارہى ہيں مثلًا يه كہ بسا اوقات چھيڑخوانى كرنے والا اُس شخص كو مار بيٹھتا ہے جواسے روكنے، منع كرنے يا اس عورت كى حفاظت كرنے كى كوشش كرتا ہے جو...
فضیلت مآب امام اکبر کا انڈونیشیا کا دورہ
بدھ, 2 مئی, 2018
ازہر شريف كا اعلى درجہ كا ايک وفد فضيلت مآب امامِ اكبر شيخ ازہر كى سربراہى  ميں انڈونيشيا كے دار الحكومت جاكرتا كى ‏طرف متوجہ ہوا. مصر کے وفد میں انڈونیشیا میں مصر کے سفیر جناب عمرو معوض صاحب اور  جامعہ ازہر شريف كے سربراه...
شیخ الازہر کا پرتگال اور موریتانیہ کی طرف دورہ
بدھ, 14 مارچ, 2018
فضیلت مآب امامِ اکبر شیخ الازہر پروفیسر ڈاکٹر احمد الطیب ۱۴ مارچ کو پرتگال اور موریتانیہ کی طرف روانہ ہوئے، جہاں وہ دیگر سرگرمیوں میں شرکت کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور صدرِ پارلیمنٹ سے ملاقات کریں گے۔ ملک کے...
124678910Last

روزه اور قرآن
  رمضان  كے رروزے ركھنا، اسلام كے پانچ  بنيادى   اركان ميں سے ايك ركن ہے،  يہ  ہر مسلمان بالغ ،عاقل ، صحت...
اتوار, 24 اپریل, 2022
حجاب اسلام كا بنيادى حصہ
جمعه, 25 مارچ, 2022
اولاد کی صحیح تعلیم
اتوار, 6 فروری, 2022
اسلام ميں حقوقٍ نسواں
اتوار, 6 فروری, 2022
1345678910Last

دہشت گردى كے خاتمے ميں ذرائع ابلاغ كا كردار‏
                   دہشت گردى اس زيادتى  كا  نام  ہے جو  افراد يا ...
جمعه, 22 فروری, 2019
اسلام ميں مساوات
جمعرات, 21 فروری, 2019
دہشت گردى ايك الميہ
پير, 11 فروری, 2019
12345678910Last