غیر مذہبی انتہاپسندی: ایک فکری، سماجی اور تہذیبی تجزیہ

  • | پير, 28 جولائی, 2025
غیر مذہبی انتہاپسندی: ایک فکری، سماجی اور تہذیبی تجزیہ

یہ مقالہ غیر مذہبی انتہاپسندی کو ایک فکری و سماجی رجحان کے طور پر زیرِ بحث لاتا ہے، جس کے اثرات معاشرے کی دینی، تہذیبی اور فکری ساخت پر نہایت مہلک ہوتے ہیں۔ یہ انتہاپسندی بظاہر “آزادی”، “عقلانیت” اور “ترقی” کے نعروں میں لپٹی ہوتی ہے، لیکن عملاً معاشرتی توازن، دینی مرجعیت اور اخلاقی شعور کو متزلزل کرتی ہے۔ مقالے میں مرصدِ ازہر کی تحقیقاتی کاوشوں کو بنیاد بنا کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح غیر مذہبی انتہاپسندی، مذہبی انتہاپسندی کی مانند خطرناک ہے، اور ان دونوں کے مابین فکری اشتراک بھی موجود ہے۔


2015 میں الازہر الشریف نے “مرصدِ ازہر برائے انسدادِ انتہاپسندی” کے نام سے ایک تحقیقی و فکری مرکز قائم کیا، جس کا مقصد ہر قسم کی انتہاپسندی، خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کا سدِ باب کرنا تھا۔ عوامی شعور میں عام طور پر “انتہاپسندی” کا تصور صرف مذہبی شدت پسندی سے وابستہ کیا جاتا ہے، حالانکہ فکری یا لادینی انتہاپسندی بھی اتنی ہی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اس مقالہ میں ہم غیر مذہبی انتہاپسندی کے خدوخال، اس کی وجوہات، اثرات، اور اس سے نمٹنے کے ذرائع پر گفتگو کریں گے۔

1. انتہاپسندی کا مفہوم اور اقسام

1.1 لغوی و اصطلاحی تعریف

انتہاپسندی دراصل “اعتدال” کی ضد ہے۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جس میں فرد یا گروہ معاشرتی، فکری یا دینی حدود سے ہٹ کر کسی ایک انتہا پر چلا جاتا ہے — خواہ وہ شدتِ دین کی ہو یا شدتِ الحاد کی۔

1.2 مذہبی و غیر مذہبی انتہاپسندی

یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ مذہبی انتہاپسندی میں فرد دین کے نام پر سخت گیر رویے اختیار کرتا ہے، جب کہ غیر مذہبی انتہاپسندی میں دین و روایت کا مکمل انکار کر کے خودساختہ “آزادی” کو نصب العین بنا لیتا ہے۔

2. غیر مذہبی انتہاپسندی: خدوخال اور محرکات

2.1 نظریاتی شناخت کا انکار

غیر مذہبی انتہاپسندی فرد کو اس کی دینی، قومی، اور تہذیبی شناخت سے کاٹ دیتی ہے۔ یہ نظریہ مذہب، اقدار، روایات اور حتیٰ کہ زبان کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتا ہے، حالانکہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام انہی عناصر سے جڑی ہوئی ہیں۔

2.2 وجودی خلا اور فکری بےیقینی

یہ رجحان انسان کو ایک بے معنی زندگی کی طرف دھکیل دیتا ہے، جہاں مقصدِ حیات، روحانی سکون اور اخلاقی حدود معدوم ہو جاتی ہیں۔ نتیجہ: ذہنی خلفشار، اخلاقی انارکی، اور معاشرتی انتشار۔

3. الحاد بطور فکری انتہاپسندی

الحاد اگر محض ذاتی عقیدے کی حد تک ہو، تو ایک سطح پر اسے فکری آزادی کا نام دیا جا سکتا ہے، لیکن جب الحاد کو سچائی کا واحد معیار بنا کر معاشرے پر مسلط کیا جائے، دینی متون کو محض انسانی تخلیقات قرار دیا جائے، اور مذہب کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ باور کروایا جائے، تو یہ ایک فکری انتہاپسندی بن جاتی ہے۔

4. مذہبی و غیر مذہبی انتہاپسندی کا باہمی تعلق

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں رجحانات بسا اوقات ایک دوسرے کے ردعمل میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک شخص جو پہلے مذہبی انتہاپسندی کا شکار تھا، وقت کے ساتھ لا دین بن سکتا ہے، اور اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔ یوں یہ ایک دائروی عمل بن جاتا ہے جو معاشرے میں فکری توازن کو مسلسل مجروح کرتا رہتا ہے۔

5. ازہر شریف کا فکری ماڈل اور حکمتِ عملی

5.1 غیر مذہبی انتہاپسندی کا انسداد

مرصدِ ازہر کی سفارشات کے مطابق، میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی پلیٹ فارمز پر اعتدال پسند بیانیہ مضبوط کیا جائے۔ دینی و قومی شناخت پر حملہ کرنے والے لبرل بیانیے کو منظم طریقے سے چیلنج کیا جائے۔

5.2 اعتدال پسند فکر کا فروغ

جامعہ ازہر کا ماڈل دینی روایات اور جدید علوم میں توازن قائم کرتا ہے۔ یہ نہ صرف مذہبی شدت پسندی کو منطقی جواب دیتا ہے بلکہ غیر مذہبی انتہاپسندی کے باطل مفروضوں کو بھی مسترد کرتا ہے۔

6. آزادیِ فکر یا گمراہی؟

اگرچہ ہر فرد کو فکر و عقیدے کی آزادی حاصل ہے، لیکن اس آزادی کی آڑ میں معاشرے کی اقدار کو مسخ کرنا، نوجوان نسل کو تشکیک اور لادینیت کی طرف دھکیلنا، اور دینی متون کو ہدف بنانا، فکری بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں ایسے رویے مجرمانہ تصور کیے جاتے ہیں۔

7. دینی رہنمائی اور نصوص کا فکری اطلاق

قرآن نے ہمیں اعتدال کی امت قرار دیا:

{وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا}
’’اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا۔‘‘ (البقرة: 143)

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے (حدیثِ قدسی – صحیح مسلم):

“میں نے اپنے بندوں کو یکسو پیدا کیا، پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا…”

غیر مذہبی انتہاپسندی دراصل اس فکری اور اخلاقی بحران کی علامت ہے جس میں انسانی معاشرے آج مبتلا ہیں۔ یہ وہ رجحان ہے جو انسان کو دینی رہنمائی، اخلاقی حدود، اور روحانی تسکین سے کاٹ کر ایک لاحاصل، غیر مربوط اور بے ہدف زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سے نجات صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی دینی تعلیمات، روایات، اور اعتدال پسند مزاج کو شعوری طور پر اپنائیں، اور اپنی نسلوں کو اس کے لیے تربیت دیں۔ اسکول، میڈیا، اور سب سے بڑھ کر خاندان کا کردار اس ضمن میں فیصلہ کن ہے۔

Print
Tags:
Rate this article:
No rating

Please login or register to post comments.