تکفیر انتہا پسند تنظیموں کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ ہتھیار اُن کے پاس موجود کسی بھی دوسرے ہتھیار سے زیادہ مہلک ہے۔ ذرا سوچیے! کیا ایک لفظ بندوق یا بم سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے؟ لیکن حقیقت یہی ہے کہ تکفیر ایک فکری وبا ہے، جسے انتہا پسند جماعتیں ہمیشہ اپنے نظریاتی اسلحہ خانے میں مرکزی مقام پر رکھتی آئی ہیں۔ اس کی تاریخی جڑیں خوارج کے ظہور تک جاتی ہیں، جنہوں نے 36 ہجری کے آس پاس اہلِ قبلہ کو صرف گناہوں کی بنیاد پر، یا اُن افعال کی بنا پر جنہیں وہ خود گناہ سمجھتے تھے، کافر قرار دینا شروع کیا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مسلمانوں کا خون بہانا جائز سمجھا۔ یہی وہ گروہ ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی پوری ہوئی: "یہ لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔"
اگر آپ غور کریں تو دیکھیں گے کہ یہی منظرنامہ بار بار دہرایا جاتا ہے: وه مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں اور معمولی سی باتوں پر یا صرف گناہوں کی بنیاد پر انہیں کافر قرار دیتے ہیں۔تکفیر کے سنگین نتائج کی وجہ سے قرآن و حدیث میں اس حوالے سے بہت سی واضح تنبیہات موجود ہیں، جن کے علاوہ اسلامی علماء کی متعدد تصریحات بھی اس خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، قرآنِ کریم میں، مومنوں کے باہمی اخوت پر زور دینے والی آیات کے علاوہ، سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ) "اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں ۔ تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالٰی کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں" [النساء: 94]۔
سنتِ نبویہ میں بھی بے شمار احادیث ایسی موجود ہیں جو کسی مسلمان پر کفر کا حکم لگانے کے حوالے سے سخت تنبیہ کرتی ہیں۔ ہم میں سے اکثر کو سیدنا اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ یاد ہوگا، جب انہوں نے ایک شخص کو "لا إله إلا الله" کہنے کے باوجود قتل کر دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے اُسامہ! کیا تم نے اسے قتل کر دیا جبکہ اس نے 'لا إله إلا الله' کہا تھا؟" اُسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، اُس نے محض تلوار سے بچنے کے لیے کہا تھا۔
لیکن نبی اکرم ﷺ نے پھر فرمایا: "کیا تم نے اسے قتل کر دیا، باوجود اس کے کہ اس نے 'لا إله إلا الله' کہی؟"
آپ ﷺ یہ جملہ اتنی بار دہراتے رہے کہ اُسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "مجھے اس قدر افسوس ہوا کہ کاش میں اُس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔"
اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ کی ایک اور صریح حدیث بھی ہے جس میں سختی سے خبردار کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"جو شخص اپنے بھائی سے کہے: اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک پر وہ کفر لوٹ آتا ہے، اگر وہ ویسا ہے جیسا کہ کہا گیا، تو ٹھیک، ورنہ یہ کلمہ کہنے والے پر لوٹ آئے گا۔"یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے سے شدید طور پر منع کیا گیا ہے، اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ دراصل خود کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " تکفیر کا باب نہایت خطرناک ہے، جس میں بہت سے لوگ داخل ہوئے اور گمراہی کا شکار ہو گئے، جبکہ علم و فہم رکھنے والوں نے احتیاط کی، تو سلامت رہے۔ اور ہم سلامتی کو کسی چیز پر ترجیح نہیں دیتے" ۔ اور امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اہلِ تحقیق پر لازم ہے کہ تکفیر سے حتی الامکان احتیاط کریں، کیونکہ ان لوگوں کے خون اور مال کو حلالسمجھنا جو قبلہ رخ نماز پڑھتے ہیں اور 'لا إله إلاالله محمد رسول الله' کا اقرار کرتے ہیں، ایک نہایتسنگین غلطی ہے۔ ہزار کافروں کو زندہ چھوڑ دینااس غلطی سے بہتر ہے کہ کسی مسلمان کے خون کا ایک قطرہ بھی ناحق بہا دیا جائے۔"
یہ تو بس قرآن، سنت، اور علمائے کرام کے اقوال سے چند مختصر اقتباسات ہیں، جو تکفیر کے خطرات اور اس سے اجتناب کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔ کیونکہ تکفیر نہ صرف معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے، بلکہ یہی سوچ آگے چل کر تخریب اور دھماکوں جیسے تباہ کن نتائج کا سبب بنتی ہے۔
تکفیر کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے کہ تکفیر محض کوئی لفظ یا عارضی فتویٰ نہیں ہوتا جو بس یوں ہی کہہ دیا جائے، بلکہ اس کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔مثلاً، اس کی بیوی اس سے علیحدہ ہو سکتی ہے، وہ نہ اپنی اولاد کا وارث بنتا ہے اور نہ ہی اس کی اولاد اُس کی وارث بن سکتی ہے، اُسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاتا اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تکفیر کا فیصلہ آج کے دور میں کسی فرد یا عام شخص کا کام نہیں، بلکہ یہ عدالتی دائرہ اختیار میں آنا چاہیے—یعنی اسے ایک بااختیار قاضی ہی صادر کر سکتا ہے— یہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ معاشرے کو اُن لوگوں سے بچایا جا سکے جو تکفیر کے مسئلے میں حد سے زیادہ آسانی برتتے ہیں، حالانکہ یہ ایک نازک مسئلہ ہے جس کے لیے سخت شرائط اور واضح ضوابط مقرر ہیں۔ پھر کسی بھی شخص کو اپنے مؤقف کی وضاحت کا حق حاصل ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ اس کے پاس کوئی قابلِ قبول تاویل یا نظر ہو۔ اسی وجہ سے ازہر شريف نے داعش یا دیگر شدت پسند گروہوں کو کافر قرار دینے سے گریز کیا، کیونکہ اگر وہ بھی اسی انداز میں تکفیر کرنے لگتا، تو ان انتہا پسندوں جیسا بن جاتا۔ صحیح راستہ یہی ہے کہ لوگوں کے ایمان پر فتوے لگانے میں عجلت نہ کی جائے۔
اگر کوئی پوچھے: "آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جب اتنی سخت تنبیہات موجود ہیں تو کوئی کسی کو کافر کیوں قرار دیتا ہے؟"
تو ہم اس سے کہہ سکتے ہیں کہ درحقیقت اس کے پیچھے تین بنیادی وجوہات ہوتی ہیں:
اوّل: جہالت اور علم کی کمی
لوگوں کو دین سے خارج کرنا شیطان کا مقصد ہے، نہ کہ اُس شخص کا جو انسانیت سے محبت کرتا ہے اور لوگوں کے لیے بھلائی چاہتا ہے۔ تکفیر کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان بغیر علم کے دوسروں پر کفر کا فتویٰ لگا دے۔ حتیٰ کہ اگر کسی کے قول یا عمل میں بظاہر کفر نظر بھی آئے، تو بھی اُسے عذر دینا چاہیے۔
سلف صالحین میں سے ایک عالم کا قول ہے: "اگر میں اپنے کسی بھائی کی داڑھی سے شراب ٹپکتی دیکھوں، تو کہوں گا شاید اُس پر گرا دی گئی ہو، اور اگر اُسے پہاڑ پر کھڑے ہو کر یہ کہتے سنوں کہ 'أنا ربکم الأعلى'، تو کہوں گا شاید وہ قرآن کی آیت پڑھ رہا ہو!"
دیکھیے، یہی ہے علم، لوگوں کے لیے عذر تلاش کرنا، اور اُن کے بارے میں حسنِ ظن رکھنا۔
دوم: خواہشاتِ نفس کی پیروی
خواہشِ نفس کی پیروی اُن خطرناک چیزوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بارہا خبردار فرمایا ہے، کیونکہ یہ انسان کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دیتی ہے۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلاَ تَتَّبِعْ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾ "اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی" [ص: 26]
اور فرمایا:﴿وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا﴾ "اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے ، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا ، اور جس کا معاملہ حد سے گذر چکا ہے ۔" [الکہف: 28]
اور شاید اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اُن خوارج کے ساتھ تعامل نہ کرنے کی نصیحت کی، جو معمولی باتوں پر دوسروں کو کافر قرار دے دیتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: "مجھے تمہارے بارے میں دو چیزوں کا سب سے زیادہ خوف ہے: لمبی امیدیں، اور خواہشاتِ نفس کی پیروی؛ کیونکہ لمبی امید آخرت کو بھلا دیتی ہے، اور خواہشات کی پیروی انسان کو حق سے روک دیتی ہے۔"
سوم: شرعی نصوص کا غلط فہم
یعنی قرآن و سنت کو غلط طریقے سے سمجھنا۔ بعض اوقات شدت پسند لوگ آیات یا احادیث کے ظاہر سے ایسا مفہوم نکال لیتے ہیں جو دراصل مرادِ شریعت کے خلاف ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، کچھ متشدد افراد صرف اس بنیاد پر کسی مسلمان کو کافر قرار دے دیتے ہیں کہ اُس نے غیر اللہ کی قسم کھا لی، اس حدیث کی ظاہری عبارت کو پکڑ کر: " جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اُس نے شرک کیا۔"
حالانکہ جمہور علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ اس حدیث میں ممانعت اُس قسم کی ہے جو تعظیم کے طور پر کی جائے—جیسا کہ جاہلیت کے دور میں لوگ لات، عُزّیٰ اور دوسرے بتوں کی قسمیں کھاتے تھے۔
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اگر کوئی لا علمی یا عادت کے طور پر کسی چیز کی قسم کھا بیٹھے تو وہ فورًا مشرک یا کافر ہو جائے۔
لہٰذا یہ بات سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ مختلف مذاہب کا وجود اور ان کے درمیان امتیاز ایک حقیقت ہے، اور ایک فطری بات ہے۔لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ معاشرہ مذہب یا قومیت کی بنیاد پر الگ الگ ٹکڑوں میں بٹ جائے اور ہر گروہ ایک الگ تھلگ جزیرے میں زندگی گزارے۔ بلکہ باہمی رابطہ، مشترکہ بقائے باہمی، اور دوسروں کو قبول کرنا—یہ سب وہ اقدار ہیں جو اسلامی معاشرے میں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں، جیسا کہ ہمیں "میثاقِ مدینہ" میں نظر آتا ہے، جہاں مسلمان اور غیر مسلم مل جل کر زندگی گزار رہے تھے۔ اور آج بھی، جب تک ہر فرد کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور ہو، یہ اصول باقی رہنے چاہییں۔