انتہا پسند تنظیموں کے نزدیک ’ولاء‘ سے مراد اللہ، اس کے رسول، صحابۂ کرام اور موحد مؤمنین سے محبت اور اُن کی نصرت و حمایت ہے؛ جب کہ ’براء‘ کا مطلب اُن تمام افراد سے بیزاری اور نفرت ہے جو اللہ، اُس کے رسول، صحابہ اور موحد مؤمنین کے مخالف ہیں، چاہے وہ کافر ہوں، مشرک، منافق، بدعتی یا فاسق و فاجر۔ ان کے نزدیک ’ولاء و براء‘ کا تصور نہایت بلند مقام رکھتا ہے، کیونکہ وہ اسے ایمان کا رکن اور کلمۂ توحید ’لا إله إلا الله‘ کے اہم مفاہیم میں شمار کرتے ہیں۔
جب ہم ان مفاہیم پر غور کرتے ہیں تو بظاہر یہ بعض لوگوں کو معمول کی یا حتیٰ کہ مثبت باتیں محسوس ہو سکتی ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ اُس وقت جنم لیتا ہے جب ان تصورات میں غلو کیا جائے، اور نتیجتاً انسانوں کے درمیان تعلقات نفرت اور تصادم کی بنیاد پر قائم ہونے لگیں۔ مزید یہ کہ انتہا پسند گروہوں کے ہاں ’ولاء و براء‘ کا جو مفہوم رائج ہے، وہ اس شکل میں شریعتِ اسلامیہ میں موجود نہیں۔ یہ حقیقت درج ذیل پانچ نکات سے بخوبی واضح ہو جائے گی:
1-
نہ سلفِ صالحین میں سے کسی نے اور نہ ہی ائمۂ اربعہ میں سے کسی نے ’ولاء و براء‘ کو ایمان یا اسلام کے ارکان میں شمار کیا۔ بلکہ امت کے جمہور علماء کا اس پر اجماع ہے کہ ایمان و اسلام کے ارکان وہی ہیں جو صحیح حدیث میں وارد ہوئے ہیں۔ جب جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے ایمان، اسلام اور احسان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ’ولاء و براء‘ کا کوئی ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ اللہ پر ایمان کا مطلب دل سے پختہ تصدیق ہے۔
علمِ عقائد میں ’عقیدۂ ولاء و براء‘ کوئی مستقل عقیدہ یا اصل کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا؛ بلکہ یہ دل کے اُن اعمال میں سے ہے جو ایمان کے اثرات اور نتائج کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں، نہ کہ اس کے بنیادی اصولوں میں سے۔ ولاء کا عملی اظہار نصرت اور تائید کی صورت میں ہوتا ہے، جبکہ براء کا عملی پہلو دشمنی اور عدمِ حمایت میں ظاہر ہوتا ہے۔
دراصل ولاء و براء کے مظاہر بنیادی طور پر دل کے اُن اعمال سے جنم لیتے ہیں جو ایمان کی سچی عقیدے کے اثرات میں شامل ہوتے ہیں۔ ایک سچا مؤمن، جو اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان رکھتا ہے، اُس کے دل میں یہ ایمان محبت، جھکاؤ اور اہلِ حق کی حمایت و نصرت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح اُس کے دل میں اُن عقائد اور افکار سے بیزاری بھی پیدا ہوتی ہے جو اُس کے ایمان کے منافی ہوں۔
ولاء و براء کی حقیقی صورت اُس وقت نمایاں ہوتی ہے جب کوئی شخص تمہارے عقیدے، ایمان اور شناخت کا انکار کرتے ہوئے تم پر ظلم کرے یا تمہارے وطن سے جنگ چھیڑ دے۔ ایسی حالت میں ولاء کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے وطن، قوم اور دینی شناخت کے ساتھ کھڑا ہو، اور براء کا مطلب یہ ہے کہ ایسے دشمن سے دل و جان سے لاتعلقی اختیار کی جائے جو تمہارے امن، تشخص اور وطن کو مٹانا چاہتا ہو۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ دشمنی کا یہ تصور مطلق نہیں؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں”۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل بنیاد آپس میں امن و سلامتی ہے، نہ کہ تصادم و جھگڑا۔
2-
ولاء و براء کے تصور کو ہمیشہ مسلمانوں کے دوسرے انسانوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینِ اسلام سے وابستہ رہے اور اپنی اسلامی شناخت کی حفاظت کرے، بغیر اس کے کہ لوگوں کے ساتھ پرامن رہنے کے اصول کو نقصان پہنچے۔
یہی حقیقی مفہومِ ولاء و براء ہے: یعنی یہ کہ مسلمان اپنے عقیدے کو شبہات یا گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھے، لیکن بغیر کسی پر کفر کا فتویٰ لگائے یا کسی معصوم جان پر حملہ کرے۔ اور ظاہر ہے کہ ہر جان، جب تک شرعاً اُس کا خون مباح نہ ہو، معصوم ہی ہے۔
3-
انتہا پسند تنظیموں کا پیش کردہ ’ولاء و براء‘ کا تصور قرآن و سنت کے صریح نصوص کے خلاف ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے درمیان جھگڑے، نفرت اور ٹکراؤ کو ہوا دیتا ہے۔ حالانکہ مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سب لوگوں سے خوش اخلاقی اور بھلے انداز میں بات کرے، بلا امتیاز۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾
“اور لوگوں سے بھلی بات کہنا” [البقرہ: 83]
اور ارشاد فرمایا:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾
“بیشک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے” [النحل: 90]
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ نیکی، صلہ رحمی، تحفہ دینے یا اُن کے تحائف قبول کرنے جیسی بھلائی کے کاموں سے منع نہیں فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾
“جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں لڑی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ برتاؤ کرنے سے اللہ تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے” [الممتحنة: 8]
4-
اگر کوئی یہ کہے کہ ’ولاء و براء‘ تو خود قرآن میں موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ…﴾ [الممتحنة: 1]
تو اس آیت کو درست طریقے سے سمجھنے کے لیے اُس کے شانِ نزول کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہ آیت حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، جنہوں نے خفیہ طور پر مکہ کے کفار کو ایک پیغام بھیجا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اُن کے خلاف جنگ کی تیاری فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس معاملے کی خبر دی، تو وہ عورت پکڑی گئی جو یہ پیغام لے کر جا رہی تھی۔ اس وقت مکہ کے لوگ رسول اللہ ﷺ اور مدینہ کی نومولود اسلامی ریاست کے کھلے دشمن تھے۔
چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی تاکہ مسلمانوں کو دشمنوں کو اپنا ولی بنانے سے روکا جائے۔ یہ بات بالکل فطری اور منطقی ہے، جس سے کوئی باشعور انسان اختلاف نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔
حتیٰ کہ آج بھی اگر کوئی شخص حالتِ جنگ میں دشمن سے دوستی کرے یا جنگی راز اُن تک پہنچائے، تو یہ سنگین جرم ہے جس کی سزا بعض اوقات سزائے موت تک پہنچ جاتی ہے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اُس وقت قرابت داری کے جذبات کے سامنے کمزور پڑ گئے، کیونکہ اُن کے اہل و عیال مکہ میں تھے — جیسا کہ مدینہ میں موجود بیشتر یا تمام مہاجرین کے تھے۔ حالانکہ بہتر یہ تھا کہ وہ اللہ کی رحمت اور رسولِ کریم ﷺ کی حکمت پر بھروسا کرتے، جنہیں قرآن نے تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔
5-
یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ اسلام کی بنیادی اقدار نہ تو آسمانی مذاہب کی دشمن ہیں اور نہ ہی انسانی تنوع سے ٹکراتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے خود واضح کیا ہے کہ رسولوں اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا مسلمان کے ایمان کی تکمیل کے لیے شرط ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ، وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ﴾ [البقرہ: 285]
یہ رواداری اختلافات اور امتیازات کے خاتمے کی دعوت نہیں دیتی، بلکہ اُن انسانی تعلقات کی بنیاد رکھتی ہے جنہیں اسلام دنیا کی اجتماعی زندگی میں غالب دیکھنا چاہتا ہے۔ عقیدہ، تہذیب اور ثقافت کی خصوصیات اپنی جگہ قائم رہتی ہیں، لیکن اسلام یہ نہیں چاہتا کہ یہ امتیازات اقوام و ملتوں کے درمیان تمدنی روابط، باہمی تعاون اور مثبت تعامل میں رکاوٹ بنیں۔
اسلامی دعوت انسانی تنوع اور معاشرتی تعدد کی حقیقت پر یقین رکھتی ہے۔ اقوام و ملل کے درمیان حقیقی ملاقات اور تعلق کا راستہ صرف تعارف اور تعاون سے ہی ممکن ہے۔
اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے یوں بیان فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا﴾ [الحجرات: 13]
اسلامی اقدار مختلف تہذیبوں کے وجود کو تسلیم کرتی ہیں، اُن کا احترام سکھاتی ہیں، اور مسلمانوں کے دلوں میں اس تنوع کے احترام کو راسخ کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کی سیرت نے تہذیبی تنوع کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس کے ساتھ عملی سطح پر ایسا مثالی تعامل کیا جو تاریخ میں رہنمائی کا معیار بن گیا۔
تہذیبوں کا باہمی التقاء انسانی تاریخ کے نمایاں ترین مظاہر میں سے ہے؛ ایک ایسا فطری و الٰہی عمل جسے نہ رد کیا جا سکتا ہے اور نہ روکا جا سکتا ہے۔
اسلام کی دعوت اور اس کی اقدار کا بنیادی ستون رواداری، مکالمہ اور پرامن بقائے باہمی ہے — نہ کہ تصادم، نفرت یا کشمکش۔ قرآن و سنت کی نصوص اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو غیر مؤمنین کے ساتھ درگزر اور معافی کا حکم دیا، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَقِيلِهِ يَا رَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا يُؤْمِنُونَ * فَأَصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ﴾ [الزخرف: 88-89]
اور فرمایا:
﴿فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيلَ﴾
“پس تو حسن و خوبی کے ساتھ درگزر کر لے” [الحجر: 85]
یہ بات اہم ہے کہ واضح کر دیا جائے: اسلام کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ غیر مسلموں کو زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ نہ ہی یہی اس کے نزول یا بعثت کا اصل ہدف ہے۔ اسلام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے دینِ حق کی سچی تصویر اور اصل تعلیمات کو دیانتداری سے پیش کیا جائے۔ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنی شریعت کے خلوص و پاکیزگی کو محفوظ رکھے اور حکمت و بصیرت کے ساتھ اس کا دفاع کرے۔
بالآخر اسلام کسی بھی عقیدے یا مذہب سے دشمنی نہیں رکھتا، بلکہ ہر طرح کے تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی جان سے پیدا کیے گئے ہیں، اور عقائد میں اختلاف انسانی فطرت کا لازمی جز ہے۔
عقیدہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے خریدا یا بیچا جا سکے، اور نہ ہی اسے کسی پر زبردستی تھوپا جا سکتا ہے — کیونکہ دین کے معاملے میں قرآن نے واضح طور پر فرمایا:
“دین میں کوئی زبردستی نہیں”۔
یہ اختلاف نہ تعارف میں رکاوٹ بنتا ہے اور نہ ہی باہمی تعاون و مشترکہ زندگی کے راستے میں۔